خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 28
خطبات طاہر جلد 17 28 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء آر جھوٹ کے خلاف جہاد کا علم بلند نہ کرے۔ پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ بھی صرف بھوکا پیاسا رہنے کو روزہ قرار نہیں دیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جھوٹ سے اجتناب کی باریک راہیں اختیار کریں گے اور اپنے نفس کو کھنگالتے رہیں گے۔ جہاں آپ کو جھوٹ نظر آئے گا وہ آپ کا دشمن، کینہ تو ز پ کے دل میں کمین گاہ بنا کے کہیں بیٹھا ہوا ہے جب اس کو موقع ملے گا وہ آپ پر حملہ کر دے گا اس حملہ سے وہ باز نہیں آئے گا۔ پس یہ ایک شرک کا بت ہے جو ہر دل میں پنہاں ہے۔ کہیں اونچا سطح کے قریب، کہیں نیچا، گہرا اور تہ میں ۔ اس بت کو توڑنا ہے۔ اگر آپ اس بت کو توڑ دیں گے تو ابراہیم کی طرح بت شکن کہلائیں گے۔ اگر اس بت کو نہیں توڑیں گے تو سارے بت اٹھ کھڑے ہوں گے اور آپ کا دل صنم خانہ بن جائے گا۔ ایسا دل اللہ کے قیام کے لئے مسجد نہیں بنا کرتا۔ پس اُمید ہے کہ آپ اس مضمون کو خوب اچھی طرح سمجھ کر اپنی زندگی میں جاری فرمائیں گے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے حضرت جابر سے روایت ہے کہ: ایک شخص نے آنحضرت صلی الیتیم سے پوچھا کہ اگر میں فرض نمازیں ادا کروں اور رمضان کے روزے رکھوں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام گردانوں اور اس سے زائد کوئی عمل نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو سکوں گا ۔ آنحضرت صلی ال السلام نے فرمایا: ہاں۔ اس شخص نے کہا خدا کی قسم میں ان کاموں سے کچھ زائد نہیں کروں گا ۔“ 66 (صحیح مسلم، کتاب الايمان، باب بيان الايمان الذي يدخل به الجنة ،حدیث نمبر : 110) اب یہ جو مضمون ہے یہ بظاہر ایک ایسا مضمون ہے کہ انسان اپنی نیکیوں میں اپنے آپ کو محدود کر رہا ہے کہ میں اس سے آگے نہیں بڑھوں گا ، ہر گز کوئی نفلی کام نہیں ادا کروں گا پھر بھی جنت میں جاؤں گا کہ نہیں۔ یہ کم سے کم شرائط ہیں جو ایک مومن کے لئے جنت میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہیں۔ اس سے جہاں نیچے گراوہ اگلا جہنم کا زینہ ہے جس میں ایک قدم نیچے اتر آئے گا لیکن ان بنیادی شرائط کو اگر وہ پورا کرتا ہے تو وہ جنتی ہے لیکن یہ شرائط کوئی معمولی نہیں ہیں اور نوافل ان کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اگر وہ شخص بغیر نوافل کے ان کی حفاظت کر سکتا تھا تو آنحضرت صلی ای ایم نے اس شرط کے ساتھ اسے ہاں کہا ہے، کر سکتے ہو تو کر ولیکن یہ پکی بات ہے اگر اپنے عہد پر قائم رہے تو تم جنت میں جاؤ گے۔