خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 385
خطبات طاہر جلد 17 385 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء حکم کو یہ شخص ٹال رہا ہے اس لئے میں اس کی بات نہیں مانتا۔ اگر یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو فساد کا ایک ایسا دروازہ کھل جائے گا جو کبھی بھی بند نہیں ہو سکتا۔ یہاں جا کر لوگوں کا دماغ کنفیوز ہو جاتا ہے۔ وہ باریک فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مضمون اگرچہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں مگر پھر مجھے نظام جماعت کی خاطر اسے بیان کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص صاحب امر ہونے کی وجہ سے کسی کو کہتا ہے کہ نماز چھوڑ دو تو وہاں اس کو ذرہ بھی تردد کی گنجائش نہیں ۔ وہ کہے جاؤ اپنے گھر بیٹھو، تم اولوالامر ہو اس دائرے کے اندر جو قرآن کے دائرے کے اندر ہے اور رسول اللہ صلی ایس ایم کے فرمودات کے دائرے کے اندر ہے اور اس دائرے میں فرائض میں فرائض کا ترک ناممکن ہے لیکن فرائض سے کم کے جو ترک ہیں وہ ممکن بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے سارا فساد بر پا ہوتا ہے۔ فرائض کا ترک بالکل واضح ہے وہ محکمات میں سے ہے کوئی دنیا میں اختیار نہیں رکھتا کہ ان محکمات کو تبدیل کر سکے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی الا السلام کے لئے تو کوئی وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ آپ صلی السلام محکمات کو نظر انداز کریں گے مگر دنیا والے جو محکمات کو نظر انداز کرتے بھی ہوں وہ اس کا حکم نہیں دے سکتے ۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ بعض لوگ خود محکمات کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ گناہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک ان کا شخصی گناہ ہے لیکن اگر وہ دوسروں کو کہہ دیں کہ یہ چھوڑ دو تو یہ بہت بڑا گناہ بن جاتا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کے اوپر حاکم بننے والی بات ہے۔ ایک حکم کی آپ تعمیل نہ کر سکیں اور عجز ہوا اور شرم ہوا اور حیا ہو یہ گناہ ایک انفرادی گناہ ہے لیکن اگر اس قدر جسارت کریں کہ دوسرے کو وہ حکم دیں جو حکم دینا آپ کے اختیار میں نہیں ہے تو یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے جو اولوالامر کی بحث اٹھائی ہے اس کے بہت سے پہلو چھوڑتے ہوئے اب میں اس بحث کو لیتا ہوں جو جماعتی نظام سے گہرا تعلق رکھنے والی ہے۔ اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔“ 66 اب اولوالامر کے مقابل پر اطاعت کا مضمون ہے فرمایا اگر سچے دل سے اطاعت اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔ اب یہ مضمون اطاعت کرنے والے کے