خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 384 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 384

خطبات طاہر جلد 17 384 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء ” اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔“ یہ فرق بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔روحانی طور پر امام الزمان اولوالامر ہے لیکن مادی لحاظ سے اور جسمانی لحاظ سے بادشاہ بھی اولوالامر ہے۔’ اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔“ ( ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد 13 صفحه : 493) تو یہ خیال کہ اولوالامر صرف روحانی نظام کا بادشاہ ہے یعنی ہمارے نقطہ نگاہ سے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلیالم اور جسمانی لحاظ سے اس کے سوا کوئی ہم پر اولوالا مر نہیں ہے یہ خیال غلط ہے۔آنحضرت صلیت ہی کے فہم قرآن کے نتیجے میں جس سے بہتر فہم قرآن ممکن ہی نہیں ہر بادشاہ، ہر سیاسی قوم کا راہنما جو حکم ہو جائے ، جس کو وہ مقام حاصل ہو جائے کہ ساری قوم کو اس کی بات ماننا ضروری ہو وہ اولوالا مر ہے اور اس کی اطاعت فرض ہے خواہ وہ دماغی لحاظ سے کیسا ہی ہو، خواہ وہ عقلی لحاظ سے ایک پاگل دکھائی دے، خواہ وہ روحانی لحاظ سے انتہائی ظالم اور حد سے گزرنے والا ہو۔ان تمام امور کا حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی یا پریتم نے ایک ایک کر کے تذکرہ فرمایا ہے تا کہ کسی کو بہانہ ہاتھ نہ آئے کہ ایسا اولوالامر ہو تو ہم کیسے اطاعت کریں گے۔فرمایا ہر صورت میں اطاعت کرنی ہے۔صرف ایک صورت ہے کہ اس کی اطاعت سے آپ باہر نکل جائیں کہ اگر روحانی بادشاہ کا حکم اس سے متضاد ہو اور بیک وقت روحانی بادشاہ کے احکام کے دائرے میں رہتے ہوئے اس پر عمل ممکن نہ ہو تو پھر حضرت رسول اللہ صل للہ ایلم کے نزدیک اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو آپ صلی یا یہ تم کو سمجھا اُس کی رُو سے وقتی طور پر ایسی صورتوں میں اس اولوالامر کی طرف رجوع کرو جو روحانی اولوالامر ہے کیونکہ اصل وہی ہے اور دنیاوی اولوالامر کو چھوڑ دو۔یہ مضمون میں نے پہلے بھی بارہا سمجھایا ہے اور اب پھر نظام جماعت کے حوالے سے دوبارہ ضرورت ہے یعنی دنیا میں احمدیوں کو جو حکومتوں کے سامنے مسائل پیش ہوتے ہیں وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہر جماعت کے دائرے میں کوئی شخص بھی یہ سوال اٹھا سکتا ہے کہ یہ میرا اولوالامر تھوڑے دائرے میں ہے خلیفہ وقت میرا اولوالا مر زیادہ وسیع دائرے میں ہے اُس کے