خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 383 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 383

خطبات طاہر جلد 17 383 خطبہ جمعہ 5 جون 1998ء ملائکہ کی آپ میں میں دیکھنی چاہتا ہوں۔اس کے سوا تو جماعت بن ہی نہیں سکتی اور اس کی تفصیل کو سمجھائے بغیر اتنی بات تو میں آپ کو سمجھا سکتا ہوں کہ نظام انسانی میں سے کچھ بھی اگر حصہ مفلوج ہو جائے تو ساری عمر کے روگ لگ جاتے ہیں۔اتنی بات تو ہر ان پڑھ بھی سمجھ سکتا ہے۔وہ نہیں جانتا کہ اس کو کیا ہوا ہے، کہاں کوئی گل ٹیڑھی ہوئی ہے مگر یہ جانتا ہے کہ ایک ہی بیماری نے سارے جسم کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، کہیں کا نہیں چھوڑا اس کو۔تو اگر ایک بھی بیماری جماعت میں کہیں لگ جائے تو اندازہ کریں کہ پھر باقی جماعت کا کیا حال ہوگا۔ہر بیماری سے پر ہیز ضروری ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں یہ زور دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے اتنے احکام ہیں ان میں سے ہر حکم پر عمل ضروری ہے کسی کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے ، یہ مراد ہے اس سے۔ہر گز یہ مراد نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نزدیک ساری جماعت اتنے اعلیٰ درجہ تک پہنچ چکی ہے کہ ہر حکم پر پوری طرح ایمان بھی رکھتی ہے اور عمل بھی کرتی ہے۔مگر اگر عمل نہیں کرتی لیکن خدا کا خوف رکھتی ہے ، اگر ڈرتی ہے کہ میرے عمل میں کمی کے نتیجے میں مجھے نقصان نہ پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے عمل کی کمزوری سے جماعت کو نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔یہ وہی خوف ہے جس کو تقویٰ کہتے ہیں۔پس اس بیماری کا علاج بھی تقویٰ ہے۔کمزوریاں تو بے شمار ہیں جن میں ہم مبتلا ہیں اس کے باوجود نظام جماعت کی حفاظت کی خاطر لازم ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں سے ڈرتا رہے اور اللہ کے حضور یہ عرض کرتا رہے کہ ان کمزوریوں کا بداثر جو دوسروں پر پڑسکتا ہے اور قانون قدرت کے طور پر پڑنا چاہئے مجھے اس سے محفوظ رکھ اور میں دشمن کے لئے ابتلا کا موجب نہ بنوں۔حضرت مسیح نے اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کی وجہ سے کوئی ٹھوکر کھا جائے تو بہتر تھا کہ وہ شخص پیدا ہی نہ ہوتا کیونکہ اس نے بڑا جرم کمایا ہے۔پس کمزوری کے باوجود اعمال کی اس حد تک حفاظت کرنا کہ وہ دوسرے جسم کے حصہ پر یعنی جماعت پر اثر انداز نہ ہوں یہ انتہائی ضروری ہے اور یہ جب ہی ہوگا جب آپ اولوالامر کے احکامات کو نظر انداز کریں گے اور تخفیف کی نظر سے دیکھیں گے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولوالامر کے متعلق دیگر تحریرات میں سے بعض حصے آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ، یعنی اس وقت مسلسل تحریر نہیں پیش کر سکتا کیونکہ مضمون بہت لمبا ہو جائے گا مگر بعض حصے میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔