خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 375
خطبات طاہر جلد 17 375 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء اب ان مصیبت کے دنوں میں جو بھائی بندوں پر ٹوٹنے والی ہے اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ تیار کریں کہ اپنی سہولتیں ان میں تقسیم کریں اور ان کے دکھ بانٹیں۔یہ دوسرا عملی اقدام ہے جس کے نتیجے میں میں یقین کر سکوں گا کہ واقعہ آپ وہ بندے ہیں جن کے سپر داللہ نے اس کائنات کی اس وقت میں بڑی ذمہ داری ڈالی تھی۔بظاہر تو آپ کی ذمہ داری اس دنیا سے تعلق رکھتی ہے مگر اس کا ئنات کی جان یہ دنیا ہے جو محمد رسول اللہ صلی لہ الیتیم کی دنیا ہے۔اس پہلو سے میں کہتا ہوں کہ ساری کائنات کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپرد کی تھی اسے ادا کر نا محض باتوں سے نہیں ہوگا، محض ہیجان سے نہیں ہو گا جو آج باہر گلیوں میں بھی دکھائی دے رہا ہے اور آپ کی باتوں میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔بہت سے گھر ہیں میں جانتا ہوں ان کا دن رات کا اب یہ پیشہ بن گیا ہے کہ ہر وقت CNN کو لگائے رکھیں اور دیکھیں کہ اب وہ کیا کہ رہی ہے حالانکہ CNN کی اکثر خبریں بھی پرو پیگنڈا کی خاطر بنائی جاتی ہیں اور پہلے بھی CNN نے دنیا کی بہت سی مخلوق کو گمراہ کیا ہے۔جو بغداد میں گزری ہے، جو عراق پر بنی ، جو بوسنیا وغیرہ میں ہوتا رہا ان سب جگہوں پر CNN اس دھوکہ بازی کی وجہ سے ساری دنیا کی رائے عامہ کو غلط رستہ پر چلاتی رہی ہے اور آخر پر پھر CNN یہ اقرار کرتی ہے کہ ہاں یہ بات نظر سے رہ گئی تھی اور یہی باتیں کرنے والے CNN کے شیدائی کہتے ہیں اب تازہ خبر آئی ہے CNN سے کہ وہ پہلی باتیں جھوٹی تھیں حالانکہ اتنی عقل نہیں کرتے کہ جب باتیں ہو رہی تھیں آپ کو پتا ہونا چاہئے تھا جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ پیشہ ہی ان کا یہ ہے ہمیشہ سے۔یہ ایک جال پھیلا یا گیا ہے دنیا میں دھو کے بازی کا اورلوگ ہیں کہ اس کو لگائی پھرتے ہیں اس لئے کہ ساتھ کچھ گندی فلمیں بھی دے دیتے ہیں یہ۔ساتھ کچھ ایسی کھیلوں کی خبریں بھی دے دیتے ہیں جن میں دلچسپی ہوتی ہے ان میں ناچ گانا ، اچھل کو داور جسم کی عریانی یہ نمایاں ہوتے ہیں۔تو خبریں صرف نہیں ہیں جو آپ کی دلچسپی کا موجب بنتی ہیں خبریں پیش کرنے کا انداز بھی آپ کی دلچسپی کا موجب بنتا ہے اور نہ صبح اٹھ کر اخبار میں وہ ساری خبریں پڑھ سکتے ہیں جو CNN نے آپ کو دی ہیں۔اس کے دینے کے انداز کے آپ شیدائی ہیں اور وہ انداز دجل کا انداز ہے اور جھوٹ کا انداز ہے اور آپ کے خاندان کو نا پاک کرنے کی ایک کوشش ہے۔اس لئے عقل اور حکمت سے کام لیں۔خبروں میں دلچسپی رکھیں خبروں کے جھوٹے انداز میں دلچسپی نہ رکھیں۔