خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 374

خطبات طاہر جلد 17 374 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء دور کی تکلیف آپ اخباروں میں پڑھ لیتے ہیں لاکھوں بھوک سے مر گئے لیکن اگر کسی ایک کو بھی بھوک سے مرتا ہوا دیکھیں اور خود دیکھیں قریب سے، پھر پتا چلے گا کہ بھوک سے مرنا کیا ہوتا ہے۔اگر اپنے کسی بچہ کو بھوک سے مرتا ہوا دیکھیں تو پتا چلے گا۔خبروں کی بات نہ کریں۔سب کو علم ہے کہ لاکھوں کروڑوں بھوک سے مر رہے ہیں لیکن ایتائی ذی القربی کا مطلب ہے ان لوگوں کو اس نظر سے دیکھیں جیسے آپ کا بچہ بھوک سے مر رہا ہو ، آنکھوں کے سامنے بھوک سے مر رہا ہو اس وقت جو دل پر گزرے گی وہ دل پر گزرے گی تو دعا مقبول ہوگی۔ماؤں کی دعا تو اس لئے بھی بعض دفعہ مقبول نہیں ہوسکتی کہ ساری زندگی ان کی خدا سے دور کٹی ہے صرف بچہ بچانے کے لئے رورہی ہوں لیکن جو بچہ آپ کا نہیں ہے اور اللہ کی خاطر اس سے بچوں والی ہمدردی ہے یہ ناممکن ہے کہ یہ دعا قبول نہ ہو۔ایسی ہی دعا ئیں تھیں آنحضرت سل ستم کی جنہوں نے ایک عظیم انقلاب بر پا کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی وجہ سے ہمیشہ آپ صلی الیت کی دعاؤں ہی کو انقلاب کا باعث قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے دنیا دار صوفیاء ہوں یا مذہبی لیڈر ہوں ان کا وہم تک اس طرف نہیں جاتا کہ حضرت رسول اللہ صلی الی یوم کی دعاؤں نے انقلاب برپا کیا تھا اور وہ یہ دعا ئیں تھیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں۔پس اپنے دلوں کو ٹو لیں۔خبریں پڑھتے ہیں Excite ہونے کے لئے تو آپ اس صورت میں مومن دل نہیں رکھتے۔آج کل بڑا ہنگامہ چل رہا ہے خبروں کا۔CNN کیا کہہ رہی ہے اور اخبار میں کیا چھپ رہا ہے اور نواز شریف نے کیا بیان دیا ہے اور واجپائی نے کیا بیان دیا ہے اور بہت لوگ ایکسائیٹ ہیں۔گھروں میں چرچے ہورہے ہیں آپس میں باتیں چل رہی ہیں آج یہ خبر آ گئی، اب یہ خبر آگئی۔خبر آ رہی ہے بربادی کی اور تمہیں ہوش ہی کوئی نہیں۔تم باتوں کے چسکے لے رہے ہو کہ یہ خبر آگئی اور وہ خبر آ گئی۔یہ مومن دل کا تقاضا نہیں ہے۔یہ وہ دل نہیں ہیں جو میں احمدیوں کے سینوں میں دھڑکتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔اس لئے میری آپ سے التجا ہے، بار بار آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اپنے سینوں میں وہ دل دھڑکا ہمیں جو لوگوں کے غم سے دھڑکتے ہوں، لوگوں کے خوف سے دھڑکتے ہوں۔وہ اللہ کی خاطر ایسا کریں۔یہ وہ دل ہیں جن کی دھڑکنیں خدا کی تقدیر کی دھڑکنیں بن جائیں گی۔لازماً دنیا میں انقلاب بر پا ہوں گے۔اس کو کوئی معمولی اور چھوٹی بات نہ سمجھیں، اس پر عمل کریں۔اور علاوہ ازیں