خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 373

خطبات طاہر جلد 17 373 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء دنیا کے عوام الناس میں ہے کہ ان سے اگر احسان کا سلوک کریں تو وہ اس پر عام لوگوں کی نسبت زیادہ ممنون ہو جاتے ہیں۔دانشور یا امیر لوگوں پر احسان کرو تو وہ بھول بھی جایا کرتے ہیں مگر عوام کو موہ لینے کا اس سے بہتر کوئی طریق نہیں۔یہ طریق تاریخ مذہب سے قطعی طور پر یقینی ثابت ہوتا ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی شمالی یتیم کے زمانہ میں اس کا ایک اطلاق عام ہوا ہے۔آپ صل اللہ ا یہ تم نے عدل سے کام لیا اور عدل سکھایا۔آپ صلی الہ ہی تم نے اِیتَائی ذی القربی سے کام لیا اور ایتَائِی ذِی القربی کے طریق سکھائے اور دیکھو کہ جو دشمن تھے وہ فی الحقیقت جان نثار کرنے والے بن گئے بلکہ ان کی جانیں قبول نہ ہوتی تھیں تو روتے ہوئے واپس جایا کرتے تھے کہ ہم سوائے جان کے کیا پیش کر سکتے تھے مگر وہ بھی قبول نہیں ہوئی۔یہ عظیم عالمی انقلاب جو ہر ملک میں برپا ہو سکتا ہے اس کے لئے کسی مذہب کی ضرورت نہیں۔ان تین بنیادی اصولوں کو پکڑ لینے کی ضرورت ہے۔ان اصولوں کے پیش نظر تمام دنیا کے ہر ملک میں ایک عظیم الشان انقلاب برپا ہو سکتا ہے جس سے یہ دنیا فی الحقیقت جنت بن سکتی ہے مگر اس کا فقدان تمام بڑی عالمی طاقتوں میں بھی ہے اور اس کا فقدان ان غریب ملکوں میں بھی ہے جو بڑی طاقتوں کے ظلم کی چکی میں پیسے جاتے ہیں۔اس پہلو سے میں جماعت احمدیہ کو ایک عالمی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ عدل، احسان اور ایس آئی ذی القربی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے پہلے سے بڑھ کر ان تین صفات حسنہ پر عمل شروع کر دیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دعا سے کام لیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ دعا کے بغیر اور مقبول دعاؤں کے بغیر آج نہ ہندوستان کے مسائل حل ہو سکتے ہیں نہ پاکستان کے حل ہو سکتے ہیں۔جب ایتائی ذی القربی پر غور کریں تو ایک ایسی ماں سامنے آئے گی نا جس کا بچہ بیمار ہے اور حالات بتارہے ہیں کہ وہ ٹھیک ہونے والا نہیں۔کیا کر سکتی ہے سوائے دعا کے اور اس وقت کی دعا جو دل کی گہرائی سے اٹھتی ہے، جو زخمی دل کی دعا ہے وہ اللہ تعالیٰ عام حالات کی دعا سے زیادہ سنتا ہے۔پس ہر احمدی دل کو این آئی ذی القربی کے تحت ایک ماں کا دل ہو جانا چاہئے۔وہ دنیا کے غموں کو محسوس کرے اور واقعۂ دل میں تکلیف محسوس کرے۔راتوں کو اٹھے اور بلبلائے۔دن کو سوچتے وقت ہر وقت اس کو یہ خیال زخمی کر رہا ہو کہ بہت سے میرے بھائی بند ہیں جو گہری تکلیف میں مبتلا ہیں جو دور کی تکلیفیں ہیں وہ ان کو قریب دکھائی دیں تب دل سے وہ دعا نکلے گی جو مقبول ہوا کرتی ہے۔