خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 372
خطبات طاہر جلد 17 372 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء ہو جائیں گے اور ان کو کچھ پرواہ نہیں ہوگی کہ کتنے غریب بھو کے گلیوں میں مرتے ہیں اور کتنے بچے اور بچیاں تباہ حال ہورہے ہیں۔اس بات کی کوئی بھی ہمدردی ان حکمرانوں کو نہیں ہے۔نہ سرحد کے اُس پار، نہ سرحد کے اس پار۔اس لئے میں دونوں کو متوجہ کر سکتا ہوں ایک ہی زبان میں اور دونوں کے احمدیوں کو یہی تعلیم دے سکتا ہوں جو عالمی تعلیم ہے اور یہ تعلیم دینے کے نتیجے میں کوئی مجھ پر یہ قدغن نہیں لگا سکتا کہ یہ تمہاری وطن کی محبت کے خلاف ہے۔وطن کی محبت کا تقاضا ہے جو میں پورا کر رہا ہوں اور یہ قرآن کی شان ہے کہ یہ تقاضا میں تمام دنیا میں بعینہ اس طرح پورا کر سکتا ہوں اور کوئی مجھے پر یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ اس نے جنبہ داری سے یا جانب داری سے کام لیا ہے۔پس یہ حسن ہے قرآن کریم کا جس کی کوئی مثال دنیا میں کسی کتاب میں دکھائی نہیں دیتی۔اس پر آپ دیکھیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم چن لئے جاؤ خواہ کسی طرح بھی چن لئے جاؤ تو جب حکومت کرو تو کچھ عدل سے تو کام لو، اس وقت ہی کچھ عدل کر لیا کرو۔اگر جیتنے میں تم نے اپنی خواہش کے احترام میں عوام سے زبر دستی ووٹ لے لئے ہیں جن کو عقل ہی نہیں کہ کس کو ووٹ دینا ہے تو اب جبکہ تم حاکم بن گئے ہو تو ان عوام سے کچھ حسن سلوک کرو۔یہ حسن سلوک صرف عدل تک محدود نہیں رہتا بلکہ قرآن کریم کی ایک اور آیت اس حسن سلوک کو آگے بڑھا دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِي ذِي الْقُرْبى (النحل: 91) کہ عدل تو پہلا مقام ہے محض عدل کے ذریعہ تمہارے مسائل حل نہیں ہو سکتے کیونکہ بعض دفعہ عدل کے ذریعہ جو کچھ اقتصادی نظام جاری ہے اس کو عدل کے ذریعہ چسپاں کریں تب بھی مسائل کا حل نہیں ہوتا۔اس کے لئے امیروں اور بڑے لوگوں کو لازماً قربانی کرنی پڑے گی۔اس لئے قرآن کریم کی حکمت بالغہ ہمیں بتاتی ہے إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ اِبْتَانِى ذِى القربی۔احسان کرنا نہیں سیکھو گے تو تمہارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔اگر احسان کا سلوک ہوتا پاکستان یا ہندوستان میں تو عوام الناس خودا پنی حکومتوں پر جانیں چھڑ کہتے۔اب ان سے زبر دستی حماقت کے ساتھ جانوں کی قربانی کی جارہی ہے۔جانیں تو بے چارے اب بھی چھڑکیں گے لیکن کہاں جان چھڑ کنی چاہئے اس کا کوئی علم نہیں۔اگر قر آنی تعلیم پر عمل ہو تو یہ عوام واقعہ اپنے راہنماؤں کی جوتیاں اٹھاتے پھریں گے، ان کے او پر آنچ آئے گی تو اپنی جان پیش کر دیں گے کیونکہ عوام الناس میں یہ ایک گہری خوبی ہے جو ساری