خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 371
خطبات طاہر جلد 17 371 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء سفا کی کا بڑھانا۔تو پہلی بات جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اس آیت سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ عدل اور امانت کے پیش نظر نہ ہندوستان میں حکومتیں قائم کی جارہی ہیں ، نہ پاکستان میں قائم کی جارہی ہیں اور عدل کا فقدان اس طرح بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خود اپنے عوام سے یہ عدل نہیں کرتے۔کشمیر کو چھوڑو بفرض محال تھوڑی دیر کے لئے ، کیا ہندوستان کے حکمران اپنے غریب اور بھو کے عوام سے عدل کر رہے ہیں؟ کیا ان کا مالی اور اقتصادی نظام دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹنے کا موجب نہیں بنا ہوا؟ کیا عوام الناس اس ظالمانہ مشین میں روز بروز پیسے نہیں جا رہے؟ ان کی روٹی کی کس کو فکر ہے، ان کے پانی کی کسی کو فکر ہے؟ تو جو قوم اپنے حکمران وہ چنے جو عدل سے اور امانت سے عاری ہیں پھر وہ ان سے وہی سلوک کرتے ہیں۔پس ایک پہلو سے ذمہ داری پھر بیچارے عوام کالا نعام پر آ جاتی ہے۔یہ لوگ عقل سے عملاً اتنے عاری ہوتے ہیں جیسے مویشی عاری ہوں اور چنتے ہیں اپنے راہنما اور راہنما وہ چنتے ہیں جولا زماً ان کو جہنم کی طرف لے کے جاتے ہیں یعنی دنیا وی جہنم میں جھونک دیتے ہیں۔ان کو حقیقت میں کوڑی کی بھی پرواہ نہیں کہ کتنے لاکھوں کروڑوں بھو کے گلیوں میں مررہے ہیں، کن کن مصائب کا شکار ہیں، کیا کیا بیماریاں ان میں پھیل رہی ہیں، کس طرح وہ اپنی عورتوں ، اپنی بچیوں کی عصمتیں بیچتے پھرتے ہیں تا کہ روٹی کے دو لقمے مہیا ہوں۔یہ آیت ان ساری باتوں کی نشان دہی کر رہی ہے اور یہ آیت اگر چہ مسلمانوں کو مخاطب ہے مگر تمام دنیا کی ہر قوم کو مخاطب ہے۔یہ آیت کریمہ مجھے یہ اختیار دیتی ہے کہ خواہ میں پاکستان کا ہوں یا ہندوستان کا ہوں یا کسی بھی ملک کا باشندہ ہوں اس زبان میں کلام کروں جو عالمی زبان ہے اور یہ زبان صرف قرآن کی زبان ہے۔خود انصاف پر قائم رہتے ہوئے ہر ایک کو میں وہ بات کہ سکتا ہوں جو بات انصاف کے منافی نہیں بلکہ انصاف پر قائم کرنے کے لئے ضروری ہے۔پس یہ ہے در حقیقت آخری صورت جس کو سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔میں جانتا ہوں کہ میری آواز کمزور ہے لیکن اس کمزور آواز کو سننے والے اگر کچھ عقل رکھتے ہوں تو اس کو غلط کہنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔حقائق بول رہے ہیں کہ تم لوگوں کو بغیر انصاف کے چنا گیا اور تم نے خود اپنی قوم سے انصاف نہیں کیا اور اب ان کو گلیوں میں نچا رہے ہو اس خوشی میں کہ کل تم پر ساری مصیبت ٹوٹے گی اور تمہارے حکمران اپنے اپنے علاقوں میں قلعہ بند