خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 370
خطبات طاہر جلد 17 370 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء اسرائیل کو اجازت دی گئی کہ وہ ظالمانہ کارروائی کرے تو ہم ضرور جوابی کارروائی کریں گے اور جوابی کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔اگر یہ بات ہو جائے تو یہ آخری دور جو ہے یہ پاکستان کے لئے بہت ہی عمدہ اور فیصلہ کن دور ثابت ہو گا جس کے بعد پھر جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے اندرونی کوششیں یا بیرونی کوششوں کے نتیجے میں بہت حد تک پاکستان خود کفیل ہوسکتا ہے لیکن جو خطرہ ہے وہ یہ کہ عوام الناس پر جو بادل منڈلا رہے ہیں ان بادلوں کو دور کر نے کا کوئی علاج نہیں ہے۔اب میں اس آیت کریمہ کی طرف آتا ہوں جس کی میں نے تلاوت کی تھی۔میں نے عرض کیا تھا کہ بظاہر لوگوں کو علم نہیں ہوگا کہ اس آیت کا اطلاق ہو رہا ہے اور اس آیت میں ہر بات کا حل موجود ہے۔پہلی بات یہ ہے إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا۔ڈیما کریسی کو ہدایت ہے کہ جب تم اپنے حکام چنا کرو تو جو امانت دار ہوں ، جو تمہاری امانت کو ادا کرنے کا حق رکھتے ہوں ان کو چنا کرو لیکن یہ ڈیما کریسی کا تصور نہ ہندوستان میں ہے نہ پاکستان میں ہے۔آج جو حکام دونوں طرف کے، فیصلے کرنے کے مجاز ہیں وہ ان صفات سے عاری ہیں۔نہ وہ عدل کی صفت رکھتے ہیں نہ امانت کی صفت رکھتے ہیں اور جتنی خرابیاں آج درپیش ہیں وہ انہی دو صفات کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔اب دیکھیں اگر عدل ، جیسا کہ قرآن کریم عدل کو ایک ایسی قدر کے طور پر پیش کرتا ہے جو عالمی ہے جو کسی ملک میں محدود نہیں، اگر ایسے عدل کو کشمیر میں جاری کر کے دیکھیں تو مسئلہ ہی ختم ہو جاتا ہے۔کشمیری کے ساتھ عدل ہونا چاہئے تھا اس کے جو حقوق ہیں وہ ادا ہونے چاہئے تھے۔ہندوستان کے ہاتھ سے جاتا یا نہ جاتا اس کی بحث بالکل الگ ہے۔کشمیری کا اپنا ایک حق ہے اور وہ عدل اگر ہندوستان کے حکمران مہیا کرتے تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔یہ سارے مسائل کشمیر پر ہندوستان کے تسلط کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں اور بجائے اس کے کہ اب بھی عدل کی طرف متوجہ ہو تا عدل کے فقدان کا علاج عدل کے مزید فقدان کے ذریعہ کئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے یعنی پہلے کون سا عدل تھا وہاں ، اب ظلم اور سفا کی کو جس کی مثال دنیا میں کم ملتی ہے اس کو استعمال کیا جائے گا عدل کے نہ ہونے کے توڑ کے طور پر اور یہ بات ختم ہونے والی نہیں۔یہ اتنی زہریلی بات ہے جب یہ عمل میں آئے گی تو پھر یہ اپنا اصل چہرہ ظاہر کرے گی کہ نفرت اور ظلم کے نتیجہ میں کبھی بھی انصاف دب نہیں سکا۔ساری دنیا میں تمام انسانی تاریخ گواہ ہے کہ عدل کے فقدان کا علاج عدل قائم کرنا ہے نہ کہ ظلم اور