خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 369
خطبات طاہر جلد 17 369 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء جو نوٹوں کے ذریعہ چھاپی جائے اور اس کے پیچھے اس کو مستحکم کرنے کے لئے کوئی ٹھوس ذرائع موجود نہ ہوں، بیرونی چیز کوئی خریدی نہ جاسکتی ہو۔تو اگر کوئی حل تھا تو وہ یہ تھا اور ہمیشہ کے لئے یہ لوگ اپنی قوم کے حقیقی محسن شمار کئے جاتے اور اس کے نتیجے میں ملک کو بہت بڑے انحطاط اور بحران سے چھٹکارامل سکتا تھا لیکن اب میں نہیں جانتا کہ یہ مشورہ فائدہ مند بھی ہوگا کہ نہیں ، ہوسکتا ہے دیر ہو چکی ہو اور یہ لوگ پہلے ہی اس روپے پر بیٹھ چکے ہوں جس طرح سانپ خزانے پر بیٹھتا ہے اور ان کو اس کو استعمال کرنے کی اجازت نہ رہی ہو۔یہ ہے اب صورت حال جس کے کچھ اور پہلو ہیں۔یہ میں عرض کر چکا ہوں کہ پاکستان کے علاوہ ہندوستان سے بھی دھوکا ہوا ہے جس کو ابھی علم نہیں کہ کیا دھوکا ہو چکا ہے اور کیا خطرات درپیش ہیں۔میں اب آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کو ایک اور خطرہ بھی لاحق ہے اور وہ خطرہ ہے جس کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے، وہ یہ ہے کہ اسرائیل نے بار ہا کھلم کھلا اعلان کیا ہے کہ اگر پاکستان نے ایٹمی بم بنالئے یا ایٹمی توانائی کے بم بنالئے تو ہم پاکستان کے ان اڈوں کو برباد کر دیں گے۔اس اسرائیلی دھمکی کو کھلم کھلا ٹیلی ویژن ، اخبارات کے ذریعہ پیش کیا جا چکا ہے اور بار ہا پیش کیا جا چکا ہے۔اس لئے ہندوستان کے خلاف تو ڈیٹرنٹ (Deterrent) بنالیا آپ نے لیکن اسرائیل جہاں سے اصل خطرہ ہے اس کے خلاف کیا ڈیٹرنٹ ہے۔جب تک فوری طور پر ایسی میزائل نہ بنائی جاسکیں کہ جواسرائیل کو نشانہ بنائیں اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے اسرائیل کو نشانہ بنا ئیں اس وقت تک یہ خوفناک کھیل ختم نہیں ہوسکتی۔ہرگز میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے۔میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر اسرائیل کو اور امریکہ کو یہ یقین ہو جائے کہ پاکستان اپنے ایٹمی توانائی کے ذخائر کے برباد ہونے سے پہلے یا برباد کرنے سے پہلے یا اس کے رد عمل کے نتیجے میں کچھ ایسی جگہ یہ ذخائر منتقل کر سکتا ہے کہ وہ پھر اسرائیل پر بعینہ یہی ہتھیار استعمال کریں، اگر یہ بات یقینی طور پر پاکستان کو حاصل ہو جائے تو ناممکن ہے کہ یہ عالمی جال ان کو کسی پھندے میں پھنسا سکے اور اس طرف توجہ نہیں ہے اور اس کے لئے ابھی وقت چاہئے اور محنت چاہئے۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے لئے وہ میزائل بنانا جو پاکستان بیٹھے اسرائیل مار کر سکیں اور نشانے پر مار کر سکیں ابھی ایک کاردارد معلوم ہوتا ہے۔اگر ایسی میزائل چائنا(China) سے حاصل کی جاسکتی ہیں تو ہرگز اس میں بھی دیر نہیں کرنی چاہئے۔عالمی طاقتوں کو یقین دلانا ضروری ہے کہ اگر