خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 26

خطبات طاہر جلد 17 26 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء ہوگا جو میں کہہ رہا ہوں ۔ اب میں واپس آتا ہوں ۔ یہ جو رابطہ عالم اسلامی ، ڈاکار، یہ سب کچھ جو مجھے کوائف دئے گئے ہیں لیکن ان کو یہاں پڑھنے کی ضرورت نہیں یہ سب اب بے معنی ہو گئے ہیں جو خلاصہ تھا بات کا وہ میں نے بیان کر دیا ہے۔ اب اس آیت کریمہ کی روشنی میں احادیث نبویہ ملایا کے سام آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ بخاري كِتَابُ الصَّوْمِ بَابُ مَنْ لَمْ يَدَعُ قَوْلَ الزُّورِ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے بخاری شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی الہ سلم نے فرمایا : دو جو شخص جھوٹ بولنے اور جھوٹ پر عمل کرنے سے اجتناب نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا، پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں یعنی اس کا روزہ رکھنا بے کار ہے۔“ (صحیح البخاری، کتاب الصوم، باب من لم يدع قول الزور ، حدیث نمبر : 1903) یہ وہ حدیث ہے جو غالباً ہر رمضان میں میں بیان کرتا ہوں کیونکہ میرے نزدیک یہ مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ رمضان کو سنوارنے کے لحاظ سے بھی اور آپ کی زندگی ، آپ کی عقبی کو سنوارنے کے لحاظ سے بھی ۔ جھوٹ جو قول الزور کہلاتا ہے یہ انتہائی ذلیل چیز ہے جو دنیا میں بھی انسان کو ضرور نامرادی اور کا مزہ چکھاتی ہے اور آخرت میں بھی وہ ہر نیکی سے محروم ہو جاتا ہے۔ پس صداقت کو اپنائیں جھوٹ کو ہر پہلو سے رڈ کر دیں۔ اپنے روزمرہ کے معاملات میں، اپنے بچوں سے باتوں میں ، اپنی بیوی سے باتوں میں ، بیوی کا اپنے ماں باپ سے سلوک ، خاوند کے ماں باپ سے سلوک اور اندرونی باتوں میں پردے ڈالنے کی کوشش کرنا یہ سارے وہ امور ہیں جو کسی نہ کسی رنگ میں جھوٹ کی ملونی رکھتے ہیں اور شاید ہی کوئی گھر ہو، بعض ایسے ہیں جو میں سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے وہ تقاضے پورے کرتے ہیں، مگر شاید ہی ایسے گھر ہوں یعنی کم ہونگے جن کے متعلق میں سو فیصدی یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے معاملات میں جھوٹ کی کوئی بھی ملونی نہیں۔ نیکیاں بہت ہیں، بدیوں سے اجتناب کرتے ہیں لیکن جب اپنے نفس کو ضرورت پیش آئے تو چھوٹا ہو یا بڑا ہو جھوٹ سے ان کا پر ہیز نہیں رہ سکتا اور یہ جو چیز ہے یہ ان کے تقویٰ کو ننگا کر دیتی ہے۔ جب بھی جھوٹ اپنی مجبوری کے پیش نظر بولا جائے وہ جھوٹ اصل جھوٹ ہے جو شرک کی طرف مائل کرتا ہے۔ جو بے ضرورت جھوٹ ہیں روز مرہ کے جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہاری لغو قسموں کی طرف