خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 25 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 25

خطبات طاہر جلد 17 25 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء دعائیں کرو۔اس لئے میں اُمید رکھتا ہوں کہ جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ 1998ء کے سال کے لئے بھی اسی طرح دعائیں کرتی رہے گی اور پہلے سے زیادہ بڑھ کے شدت سے دعا ئیں کرے گی ، یہی دعائیں ہیں جو ہمارا سہارا ہیں اس کے علاوہ ہمارا کوئی سہارا نہیں۔اِنَّهُمُ يكيدون كيدال و اكيد كيدا فَسَهْلِ الْكَفِرِينَ أَمْهِلُهُمْ رُوَيْدان ( الطارق : 16 تا 18) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيد ا یہ بڑی تدبیریں کر رہے ہیں۔تم یہ نہ خیال کرو کہ تدبیروں کے بغیر بیٹھے ہوئے ہیں، بڑے پلان بنا رہے ہیں۔واكيد كيدا لیکن میں بھی باخبر ہوں، میں بھی جوابی پلان تیار کر رہا ہوں۔اس میں جو میرے لئے راہنما اصول تھا وہ یہ تھا کہ میں بھی جوابی کارروائی کے لئے ہرممکن صلاحیت کو استعمال کروں کیونکہ اس دُنیا میں میں اس وقت خدا تعالیٰ کا نمائندہ بن کر اسلام کی خدمت پر مامور ہوں اور اس پہلو سے جماعت کے خلاف جتنی بھی مکاریاں ہو رہی ہیں ان کا اس دُنیا میں جواب دینا میرا فرض ہے کیونکہ و اكید كیدا جو خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ”کید“ بندوں کے ذریعہ جاری کی جاتی ہے۔واكيد كيدا کا یہ مطلب نہیں کہ میں آسمان سے کوئی تدبیریں کر رہا ہوں اور وہیں رہیں گی۔وہ تدبیریں آسمان سے نیچے اترتی ہیں اور اللہ جس کو پسند فرماتا ہے اس کو عقل اور شعور بخشتا ہے، اس کو صلاحیتیں دیتا ہے کہ وہ ان تدبیروں کا بھر پور تو ڑ کرے۔پس آپ کو اس معاملہ میں کسی فکر کی ضرورت نہیں یہ تو ڑ کرنا میرا فرض ہے۔آپ کے لئے میری نمائندگی کا حق تب ہی ادا ہو گا اگر میں یہ تو ڑ ہر ممکن کروں، ہر پہلو سے، ہر ذریعہ کو استعمال کروں لیکن یہ یقین رکھتے ہوئے کہ یہ دنیاوی کا رروائیاں نہیں بلکہ واكيد كیدا کا جواب ہے جو آسمان پر اللہ تدبیر فرمارہا ہے وہ نیچے اتار رہا ہے اور اپنے ان بندوں کو جن کو استعمال کرنا چاہتا ہے وہ تدبیریں سمجھاتا ہے، سمجھاتا ہے۔اس لئے بڑی حاضر دماغی کے ساتھ ، ہر پہلو کی بار یکی پر نظر رکھتے ہوئے جتنی بھی تدبیریں ممکن ہوسکتی ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم کر رہے ہیں لیکن ان تدبیروں کا فیصلہ آپ کی دعائیں کریں گی، اس رمضان کی دعائیں جو باقی ہے اور سارے سال کی دعائیں۔اس لئے 1997ء کی طرح 1998ء کا سال بھی ہمارا ہے، ہمارا رہے گا اور کوئی دُنیا کی طاقت اس سال کو ہم سے چھین نہیں سکتی۔اس یقین کے ساتھ اب آگے بڑھیں اور اس یقین کے ساتھ دعائیں کریں۔انشاء اللہ تعالیٰ اس کا نتیجہ آپ دیکھیں گے کہ یہی