خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 363
خطبات طاہر جلد 17 363 خطبہ جمعہ 29 مئی 1998ء یہ ہوہی نہیں سکتا کہ انہوں نے اس فخر سے اعلان کیا ہو کہ ہے نہیں دکھاؤ لیکن ظاہر یہی کیا کہ کر کے تو دکھاؤ۔اس وقت تک پاکستان کی حکومت نے بھی یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ ہمارے پاس ذخائر موجود ہیں اس لئے وہ یہ اعلان کرتے رہے کہ ہمارے پاس Know How یعنی اس کا علم موجود ہے اور جب چاہیں ہم ایک منٹ کے اندر اندر ایٹم بم بنا سکتے ہیں۔گوہر ایوب صاحب نے کہا اتنا آسان ہے جیسے تالے میں چابی گھما دی جائے۔یہ نہایت احمقانہ بات ہے۔تالے میں چابی گھمانے کا اور عمل ہے اور ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کرنے کے بعد وقت کا انتظار یہ ایک بالکل اور بات ہے۔دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی فیصلہ کرنے کے بعد فوری طور پر ایٹم بم نہیں بنا سکتی، لمبے وقت چاہئیں۔چنانچہ یہ وہ حصہ تھا جس کو عملاً انہوں نے اس اعلان کے ساتھ ظاہر کر دیا کہ چابی فیصلہ کی چاہئے۔عملاً ہمارے پاس موجود ہے اور چونکہ اس وقت حالات کا اقرار پاکستان کی طرف سے نہیں تھا اس لئے بظاہر یہ کہا جاسکتا تھا کہ ہو سکتا ہے انہوں نے چین سے ایٹم بم حاصل کر لیا ہو لیکن یہ بات درست نہیں۔آغاز ہی سے سب کو علم تھا کہ پاکستان کے پاس کتنے ایٹم بم بن چکے ہیں، کتنے موجود ہیں خزانے میں اور اسی طرح ہندوستان کا بھی علم تھا۔جو ڈرامہ کھیلا گیا ہے اب میں اس کے متعلق بتاتا ہوں کہ ڈرامہ ہے کیا۔جب ہندوستان نے یہ چال چلی اور ایٹمی دھما کہ کیا تو اس کے خلاف پابندیاں عائد کی گئیں اور بڑی حکومتیں چاہتی تھیں کہ پاکستان کے خلاف بھی ضرور پابندیاں عائد کریں۔اس لئے انڈیا کی حکومت یا اس کے سر برا ہوں نے یہ اعلان کیا کہ دھماکہ کر کے دکھاؤ۔اچھا بھلا علم تھا کہ موجود ہے سب کچھ ، وہ چاہتے تھے کہ یہ دھما کہ کریں تو ان کے اوپر بھی بعینہ اسی طرح کی پابندیاں عائد کی جائیں اور اس طرح ملک کے عوام غربت کی چکی میں پیسے جائیں۔اُن کا ایک مخفی سہارا موجود تھا اگر چہ وہ بھی ایک دھوکا ہے۔جب بھی عالمی طاقتیں کسی ملک کی مالی امداد بند کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں، اگر وہ جاری رکھنا چاہیں تو ہمیشہ اسرائیل کو استعمال کرتی ہیں۔اسرائیل کی معرفت و مخفی مالی امداد جاری رہتی ہے لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا یہ بھی ہندوستان کے ساتھ دھوکا ہے۔اسرائیل کے ذریعے ملنے والی امداد جنگ کو پھیلانے میں اور اس کے خطرناک اثرات کو ظاہر کرنے کے لحاظ سے یہ امداد مد ہوسکتی ہے یعنی ایک دھوکا ہو سکتا ہے کہ اس امداد سے ہمیں گویا کہ جنگی کارخانے کو چلانے کے لئے مالی سہولتیں مہیا ہو گئیں لیکن ناممکن ہے کہ