خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 353
خطبات طاہر جلد 17 353 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء اب اس زمانہ کا روپیہ بہت بڑی چیز تھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان لفظوں میں یہ نہ سمجھیں کہ بہت تھوڑ اسا مطالبہ کر رہے ہیں۔فرماتے ہیں جو تو فیق رکھتا ہے وہ ایک روپیہ بھی ماہوار دے دے۔فرمایا: دو کیونکہ علاوہ ہنگر خانہ کے اخراجات کے دینی کا رروائیاں بھی بہت سے مصارف چاہتی ہیں۔66 یعنی لنگر خانہ بھی اُس وقت ایک نمایاں بڑا خرچ ہوا کرتا تھا، اب بھی ہے۔آپ کا لنگر خانہ بہت خرچ چاہتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے سہولتیں اتنی ہو چکی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر خانہ کی برکت سے اب یہ لنگر بیسیوں ملکوں میں بڑی شان سے جاری ہو گئے ہیں۔اور اس سے بہت زیادہ خدمت کرنے کی توفیق پارہے ہیں جو اس زمانہ میں بظاہر نظر آتی تھی۔فرمایا: صد با مہمان آتے ہیں مگر ابھی تک بوجہ عدم گنجائش مہمانوں کے لئے آرام دہ مکان میسر نہیں جیسا کہ چاہئے۔چار پائیوں کا انتظام نہیں۔“ اب اُس زمانہ میں زمین پر بستر بچھانے کا انتظام تو تھا مگر چار پائیوں کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فکر تھی۔اب آپ لوگ جب لندن جلسہ پر جاتے ہیں تو آج بھی ہم آپ کو چار پائیاں مہیا نہیں کر سکتے۔کرتے ہیں تو کم لوگوں کے لئے بعض فیمیلیز کے لئے لیکن اکثر لوگ زمین پر سوتے ہیں۔تو یہ نہ سمجھیں کہ ہم اُس زمانہ کی مہمان نوازیوں سے بہت آگے بڑھ گئے ہیں۔اگر غور کر کے دیکھیں تو اُس زمانہ کی مہمان نوازیاں بعض پہلوؤں سے آج کی ہماری مہمان نوازی سے بھی آگے تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ فکر رہتی تھی کہ ان سب کے لئے میں چار پائیاں مہیا کروں۔توسیع مسجد کی ضرورتیں بھی پیش ہیں۔تالیف اور اشاعت کا سلسلہ بمقابل مخالفوں کے نہایت کمزور ہے۔( یعنی بمقابل مخالفوں سے مراد عام مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہیں جیسا کہ فرمایا : ) عیسائیوں کی طرف سے جہاں پچاس ہزار رسالے اور مذہبی پرچے نکلتے ہیں ہماری طرف سے بالالتزام ایک ہزار بھی ماہ بماہ نکل نہیں سکتا۔“ ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب پہلے سے بہت بہتری ہو چکی ہے۔فرمایا: