خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 352 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 352

خطبات طاہر جلد 17 352 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء اب یادرکھیں کہ یہ تحریک جو مالی تحریک کر رہا ہوں۔ہر گز یہ وجہ نہیں کہ جماعت کو کوئی مالی تنگی ہے۔ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا، ایک رات بھی مجھے پر ایسی نہیں آئی جس میں یہ فکر ہو کہ خدا کے دین کی یہ ضرورت ہے اسے کہاں سے پورا کروں گا۔بلاشبہ، ہمیشہ اللہ تعالیٰ خود دلوں میں تحریک کرتا ہے اور وہ ضرورت کو پورا کر دیتے ہیں۔اس لئے نعوذ باللہ من ذالك ناشکری کے طور پر میں یہ تحریک نہیں کر رہا۔میں اس لئے کر رہا ہوں کہ جو بھی اس تحریک کے نتیجہ میں مالی قربانی کریں گے ان کا بھلا ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی تمام بہبود اس بات سے وابستہ ہو جائے گی کہ وہ خدا کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں۔دین بھی سنور جائے گا اور دنیا بھی سنور جائے گی۔پس مجھے تو آپ کی فکر ہے یعنی آپ میں سے ان کی جو اپنے حال کو بہتر جانتے ہیں کہ جس حد تک خدا نے توفیق دی تھی اس حد تک خرچ نہیں کر رہے۔اُن کی فکر ہے، جماعت کی ضرورتوں کی فکر نہیں ہے یعنی فکر تو ہے مگر یقین ہے کہ اللہ ضرور پوری کرتا ہے۔پس آپ اپنا حال درست کریں۔آپ اگر اچھے ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت پہلے سے بھی بڑھ کر ترقی کرنے لگے گی۔پس اس پس منظر میں اس تحریک کو سنیں۔اُس کے لئے اب وقت ہے کہ اپنے مال سے بھی اس سلسلہ کی خدمت کرے۔جوشخص ایک پیسہ کی حیثیت رکھتا ہے۔وہ سلسلہ کے مصارف کے لئے ماہ بماہ ایک پیسہ دیوے۔“ اب یہ تحریک کا آغاز تھا۔اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ایک پیسہ دیوے۔ہوسکتا ہے اُس زمانہ کا جو پیسہ ہے وہ آج کے زمانہ میں سوروپے کے برابر ہو۔اب موازنہ کرنا تو مشکل ہے مگر اتنا پتا ہے کہ پیسے میں بہت کچھ آجایا کرتا تھا اور اب کئی مارکس (Marks) میں بھی کچھ نہیں آسکتا جو اس زمانہ میں ایک پیسہ میں آجایا کرتا تھا۔تو ی نسبتیں معین کرنا تو میرا کام نہیں اور یہ ہے بھی بہت مشکل۔صرف اتنا یا درکھیں کہ ایک پیسہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں تو اس پیسہ کی بھی بہت قیمت ہے لیکن پھر بھی پیسہ پیسہ ہی تھا اور ایک پیسہ خرچ کرنا تمام مخاطب جماعت میں سے ہر شخص کے لئے ممکن تھا۔وو وہ سلسلہ کے مصارف کے لئے ماہ بماہ ایک پیسہ دیوے۔اور جو شخص ایک روپیہ ماہوار دے سکتا ہے وہ ایک روپیہ ماہوار ادا کرے۔“