خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 348
خطبات طاہر جلد 17 348 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں کچھ خرچ کرتا ہے اسے اس کے بدلہ میں سات سو گنا زیادہ ثواب دیا جاتا ہے۔“ (جامع الترمذي، أبواب فضائل الجهاد عن رسول الله ﷺ باب ما جاء في فضل النفقة۔۔حديث نمبر : 1625) یہاں لفظ ثواب نہیں تھا یعنی عربی لفظوں میں لفظ ثواب نہیں ہے مگر ترجمہ کرنے والے بعض دفعہ اپنی طرف سے وضاحت کی خاطر بعض لفظ زائد کر دیا کرتے ہیں۔صرف اتنا فرمایا ہے کہ سات سو گنا زیادہ دیا جائے گا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس سات سو گنا کا تعلق اسی دنیا سے ہے۔آخرت میں تو شمار ہی کوئی نہیں۔اس لئے ثواب جب کہہ دیا تو معاملہ غلط کر دیا ترجمہ کرنے والے نے۔مضمون کو خود نہیں سمجھا اور خواہ مخواہ اللہ کی رحمت کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ثواب تو لا محدود ہوگا جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے ثابت ہے اور سات سو گنا سے مراد اس دنیا میں کم از کم سات سو گنا ہے کیونکہ دوسری جگہ قرآن کریم میں ایک مثال بیان ہوئی ہے ایسی کھیتی کی جس پر ہر دانہ جو بویا جائے سات سو گنا دانوں میں بدل جاتا ہے اور میں نے پہلے حساب لگا کر ایک دفعہ خطبہ میں بیان کیا تھا کہ واقعۂ جب کھیتیاں بوٹا مارتی ہیں، پنجابی محاورہ ہے مگر بہت اچھا کہ بوٹا مارتی ہیں، تو ہر دانہ سات سات بالیوں میں تقسیم ہو سکتا ہے اور ان میں سے ہر ایک سوسودانوں والے خوشے نکالتی ہیں تو حسابی رو سے ہم نے تجربہ کر کے دیکھا ہے۔ایک محدود پیمانے پر میں نے اپنی زمین پر بھی تجربہ کیا تھا واقعہ ایک ایک دانہ جو لگایا گیا وہ سات سودانوں میں تبدیل ہوا۔اگر چہ وسیع پیمانے پر ایسا کرنا زمیندار کے لئے مشکل ہے کیونکہ بہت سی کاشت کی خرابیاں حائل ہو جاتی ہیں مگر سات سو والا تجربہ میں خود کر چکا ہوں واقعۂ ایسا ہو سکتا ہے مگر یہ خیال کہ صرف سات سو گنا ہو گا یہ بھی غلط ہے کیونکہ اس وعدہ کے معا بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پس جس کے لئے وہ چاہے اور بھی بڑھا دیتا ہے۔چنانچہ دنیا میں جو ترقی یافتہ قومیں ہیں ان کی کھیتیوں کا حال اس سات سو گناوالی مثال سے آگے ہے۔بہت سے ایسے بیج ہیں مثلاً مکئی کے بیچ جو اس سے بھی زیادہ پھل لے آتے ہیں اور طے شدہ حقیقت ہے کہ يُضْعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ (البقرة: 262) کا مضمون ان پر پورا اترتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سات سو گنا کا وعدہ تو ہے مگر یا درکھو اس پر بھی میں اگر چاہوں تو جس کے لئے چاہوں اس سے بڑھا سکتا ہوں۔پس یہ دونوں باتیں اس دنیا میں انسانی زندگی پر صادق آنے والی باتیں ہیں۔جہاں تک آخرت کا تعلق ہے میں نے بیان کیا ہے اس کا تو