خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد 17 24 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء مطلع فرماتا ہے۔دوسرا ان کے اپنے مُلا نے منہ پھٹ ہیں۔وہ برداشت کر ہی نہیں سکتے انہوں نے ضرور پھکڑ تو لنے ہیں۔اس لئے دو ذریعے ہیں جن سے ہمیں خبریں ملتی ہیں۔پہلا ذریعہ ان کے اپنے مقرر کردہ، قابل اعتماد حکومت کے کارندے ہیں جن میں ایک بھی احمدی نہیں ان سے بیٹھ کر جو باتیں کرتے ہیں ان کا دل بولتا ہے کہ جھوٹ اور بکواس ہے اور وہ اپنے ذرائع سے جس طرح بھی ہو سکے ہمیں خبریں پہنچا دیتے ہیں۔اب بتائیں اس میں احمدیوں کی سازش کہاں سے آگئی۔اگر سازش ہے تو تم نے اے احمدیت کی مخالفت کرنے والے گروہوں کے سر برا ہوا! تم نے خود مقرر کئے ہیں یہ آدمی اور تم گھبرا گھبرا کر چاروں طرف دیکھتے ہو کہ یہ ہیں کون ، کہاں سے بولے ہیں لیکن تمہارے مقرر کردہ ہیں ہم نہیں بتا ئیں گے کون ہیں۔تم ڈھونڈ لوان کو اور زیادہ بے چینی ہوگی۔شیشے کے گھر میں بیٹھے ہوئے سب کچھ دکھائی دے رہا ہے۔اور مُلاں کو تو نہیں ہم کہہ سکتے کہ ہمارے ایجنٹ ہیں۔کام وہی کرتے ہیں جو ایجنٹ کیا کرتے ہیں لیکن ہیں وہ ملاں اور مخالف ملاں اور پھکڑ باز۔ملاں تو برداشت کر ہی نہیں سکتا اس کے ہاتھ میں کسی قسم کا کوئی راز آجائے تو دنیا کو یہ بتانے کے لئے کہ میں نے کروایا ہے، میں احمدیت کی مخالفت میں یہ کام کر رہا ہوں اس نے ضرور پھکر تو لنے ہیں۔آپ مُلاں کی زبان نکلوادیں گے تو اشاروں سے بتائے گا کہ میں نے یہ کام کروایا ہے۔اس لئے دو ہمارے ذرائع ہیں جو اللہ کے فضل سے ہمیشہ ہماری مدد کرتے ہیں یعنی اللہ کی تقدیر کے تابع اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔پس جو کچھ ڈا کار Dakar میں ہو رہا ہے کس طرح پاکستان کا ایمبیسیڈ راس میں ملوث ہے، کس طرح پاکستان میں ان باتوں کی طنابیں ہیں، کیا مشورے دئے جاتے ہیں، کس طرح صدر Jammeh کو بتایا جاتا ہے کہ اب تم اور تمہارے نمائندے بھاگے بھاگے ڈا کار جاؤ اور ڈاکار کو احمدیت کی مخالفت کا اڈا بنا لو۔یہ وہ بات ہے جو وہ عملاً اس حیثیت سے کر چکے ہیں کہ وہاں اب جو رابطہ عالم اسلامی کا اڈا ہے وہ ڈا کار میں قائم کر دیا گیا ہے۔کیا نتیجے پیدا ہونگے اس کے؟ اس سے پہلے رابطہ عالم اسلامی کی جو کارروائیاں تھیں ان کو اللہ تعالیٰ نے نکبت کی ماردی ہے، ذلت کی مار دی ہے، آج بھی یہی تقدیر جاری ہوگی اور انشاء اللہ تعالیٰ اس سال یعنی 1998ء کے سال میں جیسا کہ گزشتہ مباہلہ کی دعا میں اللہ نے میرے منہ سے نکلوا دیا تھا کہ 1997ء کا سال کافی نہیں 1998ء کے لئے بھی