خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 345

خطبات طاہر جلد 17 345 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء خرچ کرنے کے نتیجے میں تمہیں روحانی نقصان تو جو پہنچنا تھا پہنچا، مالی نقصان بھی بہت پہنچا ہے اور یہ وہ بات ہے جس کو ساری جماعت کی تاریخ دو ہراتی چلی آرہی ہے۔میں نے بار ہا ایسی مثالیں آپ کے سامنے رکھی ہیں جن میں مجھے ایسے دوستوں سے واسطہ پڑا جنہوں نے اقرار کیا کہ ایک وقت وہ تھا کہ وہ اپنی مالی تنگی کی وجہ سے خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے ہاتھ روک رہے تھے۔میرا ایک خطبہ انہوں نے سنا جس میں یہی مضمون بیان ہو رہا تھا جو میں نے اب بیان کیا ہے۔اُس دن انہوں نے عہد کر لیا کہ مالی تنگی یا مالی فراخی یہ دونوں باتیں ہمارے لئے اب بے محل ہو گئی ہیں، خدا کی راہ میں ضرور خرچ کرنا ہے۔ایک شخص نے مجھے کہا کہ میں نے سوچا ہے کہ قرض لے کر بھی کرنا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں اپنے بچوں پر قرض لے کر خرچ کرتا ہوں جب کار خراب ہوتی ہے تو قرض لے کر ٹھیک کراتا ہوں۔قرضوں کے بوجھ تلے اپنی ذات کی وجہ سے دب گیا ہوں۔تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اللہ کی وجہ سے قرض لوں ان قرضوں میں کچھ اضافہ ہوگا ایک اضافہ تو سچا اضافہ ہوگا، ایک اضافہ تو نیک اضافہ ہوگا۔یہ عہد کر کے انہوں نے اپنی زندگی کا رخ بدل دیا، ایسا رخ پلٹا کہ ان کے سارے قرضے اتر گئے۔تمام مالی تنگی ، مالی فراخی میں بدل گئی اور پھر بڑھ چڑھ کر انہوں نے اپنی خواہش کے مطابق خدا کی راہ میں خرچ کرنا شروع کر دیا۔وہ صاحب فوت ہو چکے ہیں۔اس موقع پر میں ان کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن میں یہ بتا تا ہوں کہ لفظ لفظا انہوں نے یہی کچھ لکھا جو میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے لیکن یہ تو آغاز تھا۔جب میری خلافت کا آغاز ہوا ہے انہی دنوں میں میں نے کچھ ایسے خطبے دئے تھے جن کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا اس کے بعد تو مسلسل یہی بات ساری دنیا میں اسی طرح رونما ہورہی ہے۔پس یہ حکمت کی بات ہے اپنے پلے باندھ لیں۔وہ لوگ جو خدا کی خاطر تنگی میں خرچ کرتے ہیں اللہ کبھی ان کا ہاتھ تنگ نہیں رہنے دیتا۔جو فراخی میں خرچ کرتے ہیں ان سے بھی اللہ کا حسنِ سلوک ہے ان پر بھی رحم فرماتا ہے لیکن ان کو بہت پسند کرتا ہے جوگی کے باوجود خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اس کے جواب میں اللہ کوتو کوئی تنگی نہیں اس لئے وہ بے انتہا عطا فرماتا ہے اتنا کہ شمار میں بھی نہیں آسکتا لیکن اس تعلق میں میں ایک نصیحت، جو آپ میں سے میرے اس وقت مخاطب ہیں ، آپ خود جانتے ہیں کون ہیں، ان کو کرنی چاہتا ہوں کہ نیت یہ نہ کریں کہ تنگی میں خدا کی خاطر خرچ کریں گے تو تنگی دور ہوگی۔جب یہ نیت کریں گے تو یہ نیت