خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 344
خطبات طاہر جلد 17 344 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء مخاطب ہو سکتے ہیں اور کون ہوسکتا ہے یہ فیصلہ سننے والے نے خود کرنا ہے۔اس تمہید کے بعد اب میں اس آیت سے متعلق تشریحی ترجمہ پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَانْتُمْ هُؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِی سَبِیلِ اللهِ سنو تم ہی وہ لوگ ہو جن کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جا رہا ہے۔یہ ایک بہت بڑا اعزاز کا فقرہ ہے۔اگر آپ غور کریں تو دل اللہ کی حمد میں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اس حال میں ڈوب جائیں گے کہ ہمیں مخاطب کر کے خدا فرما رہا ہے کہ تمہیں چن لیا گیا ہے اور یہ صورت حال آج سوائے جماعت احمدیہ کے تمام عالم اسلام میں کسی پر صادق نہیں آتی۔کھانتُم هُؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَهَا وَ توسہی اور جماعت ، مذہبی یا غیر مذہبی، جو اس طرح اللہ کی راہ میں براہ راست دین یا غریبوں پر خرچ کرنے کے لئے دعوت دے رہی ہو اور جس کو اللہ دعوت دے رہا ہو کہ اٹھو اور نیک کاموں میں خرچ کرو، آج میں تم سے مخاطب ہوں۔اس پہلو سے امر واقعہ یہ ہے کہ آپ کے سوا خدا تعالیٰ آج کے زمانہ میں کسی سے اس طرح مخاطب نہیں جس طرح اس آیت کریمہ میں اس نے خطاب فرمایا ہے۔فَانْتُمْ هُؤُلاء - هؤلاء کے لفظ نے ایک مزید زور پیدا کر دیا سنو! سنو! تم ہی تو وہ ہو جن کو اس بات کی طرف بلایا جارہا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اس کے بعد ایک اظہار ہے شکوہ کا سا۔فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ اس کے باوجود تم ہی میں سے وہ بھی ہیں جو بخل سے کام لیتے ہیں۔تو یہ دوسرا حصہ ہے جو خدا کا بندے پر شکوہ ہے۔اس کے متعلق میں نے عرض کیا تھا کہ آپ میں سے کسی کے متعلق معین شکوہ میرے ذہن میں نہیں ہے۔مجھے تو جہاں تک جماعت جرمنی دکھائی دیتی ہے مالی قربانیوں میں بہت آگے بڑھی ہوئی ہے اور مسلسل ہر آواز پر لبیک کہتی ہے اس میں بجنات بھی شامل ہیں، انصار اللہ، بچے ، سارے کے سارے، خدام تو ہیں ہی، سب میرے نزدیک اس پہلو سے اللہ کے فضل کے ساتھ بہت اچھے ہیں لیکن ہو سکتا ہے بعض سننے والے سمجھ جائیں کہ یہ شکوہ ان سے بھی ہے پس ان کو اس امر کی طرف خصوصیت سے توجہ کرنی چاہئے۔فرمایا: فَمِنكُم منْ يَبْخَلُ وَ مَنْ يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ لیکن یادرکھو کہ اگر بخل سے کام لو گے تو اپنے نفس کے خلاف بخل سے کام لے رہے ہو گے۔تمہیں اس بخل کا کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ الٹا نقصان ہے اور آنے والا وقت ثابت کر دے گا کہ خدا کی راہ میں ہاتھ روک کر