خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 339
خطبات طاہر جلد 17 339 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء جن لوگوں کے حق میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ان کو حیات طیبہ عطا ہوئی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی کا لمحہ لمحہ موت تک خدا کی راہ میں وقف رہتا ہے۔یہ یادداشتیں، براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 416 سے لی گئی ہیں۔پھر فرمایا: ”اے ایمان والو خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو اور شیطانی راہوں کو اختیار مت کرو۔“ جیسا کہ کلام الہی سے میں نے یہ ثابت کر کے دکھایا تھا کہ اور کا لفظ بظاہر ایک زائد بات کا تقاضا کر رہا ہے مگر حقیقت میں پہلی بات ہی کی تشریح ہے۔بعینہ اسی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ عبارت ہے کہ ”اے ایمان والو خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو۔گردن دو طرح سے ڈالی جاتی ہے۔ایک بیل جس کے اوپر، جس کی گردن میں خدمت کا جو ا ڈالا جاتا ہے وہ بیل جس کو عادت پڑ چکی ہوتی ہے جب جو ا اٹھا کر زمیندار اس کی طرف چلتا ہے گردن پر ڈالنے کے لئے تو میں نے خود دیکھا ہے ایسے بیلوں کو وہ سر نیچے کر دیتے ہیں اور وہ بیل زمیندار کو بہت پیارے ہوتے ہیں اور کچھ بیل ایسے ہیں جو سینگ مارتے ہیں اور بڑی مشکل سے ان کو قابو کرنا پڑتا ہے رسی کے پھندے ان کے سینگوں پر ڈالنے پڑتے ہیں اور ایک آدمی ایک طرف سے گھسیٹ رہا ہے دوسرے نے جا کر جو ا ڈال دیا۔تو یہ سلوک تو نہ کرو اپنے اللہ سے۔اس کے بیل ہو اس کے لئے اپنی جان بیچ ڈالی اور گردن جوا کے لئے خم نہ کی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں خدا کی راہ میں اپنی گردن ڈال دو۔ایک یہ معنی ہیں۔دوسرا ذبح ہونے کے لئے گردن ڈال دو جیسے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنی گردن ڈالی تھی۔تو یہ دونوں طریق ایسے ہیں جن میں آپ اپنی جان کے ذریعہ اس بات کا اقرار کر رہے ہوں گے کہ میں نے یہ جان بیچی ہوئی ہے میری نہیں رہی۔اس کے بعد اور شیطانی راہوں کو اختیار مت کرو کا یہ مطلب ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ ایسا گردن ڈالنے والا احتمالاً بھی شیطان کی راہ اختیار کر سکتا ہے۔مراد یہ ہے کہ وہ الگ بات ہے ، یہ اور بات ہے۔شیطانی را ہیں اختیار کرنے والے اور لوگ ہیں اور یہ بالکل اور لوگ ہیں۔اگر شیطان سے بچنا ہے تو گردن ڈالنا ضروری ہے۔لازم ہے کہ خدا کے سامنے اپنی گردن ڈال دو۔” کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔“ وہی آیت کریمہ ہے جو میں نے پہلے پڑھی تھی اسی کا تشریحی ترجمہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں۔فرماتے ہیں: