خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد 17 23 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء ہیں جھوٹ بولتے ہیں۔یہ بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ کا ہاتھ ہے۔ان کو پتا ہے کہ ان کا ایک دوسرے کا ہاتھ ہے اور اگلا سال ابھی باقی ہے جس میں یہ بہت سی توقعات لگائے بیٹھے ہیں یعنی 1998 ءکا سال۔یہ سال جس میں سے ہم اب گزر رہے ہیں۔اس سال کے متعلق میں صرف اتنا عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ یہ سال تو گزر چکا ہے اس میں جو کچھ انہوں نے کرنا تھا کر دیکھا۔حکومتیں بھی ان کو ، بڑی جابر حکومتیں جو تمام امور کی لگا میں ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھیں وہ بھی ملیں لیکن جو مرضی کر لیں اب اس گزرے ہوئے سال کو یہ تبدیل نہیں کر سکتے۔ان کے جو منصوبے تھے وہ جاری ہیں پہلے سے بہت زیادہ شدت کے ساتھ جاری ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے میرے منہ سے اس وقت 1998 ء کا سال بھی نکال دیا۔تو یہ سال تو ہار گئے بہر حال، اگلا بھی بہر حال ہارنا ہے لیکن ان کی کوششیں 1998 ء میں پورے عروج پر ہوں گی اور اس کے متعلق ہماری نظر ہے کہاں کیسی کا رروائیاں ہو رہی ہیں۔صدر Jammeh گیمبیا کے جو صدر ہیں ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا تھا، ان کو ریڈ کارپٹ Treatment اور ان کو ایک ہیرو کے طور پر پیش کرنا) اور ان کو سعودی عرب کے میڈل دینا یہ ساری باتیں اب صدر سینی گال جو خود فرانسیسی بولنے والے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اپنے طور پر، ذاتی طور پر کوئی تعصب نہیں رکھنے والے ہیں، ان کو بعینہ یہی Treatment دی گئی ، یہی ان کے ساتھ سلوک کیا گیا اور اس میں پیش پیش صدر Jammeh صاحب تھے۔جس طرح وہاں ان کو گولڈ میڈل ملا کہ اسلام کی بڑی خدمت کی گئی ہے اور نمایاں طور پر دکھایا گیا کہ اس طرح سعودی عرب ان کا احترام کرتا ہے، یہ عظیم الشان فاتح جرنیل ہیں یہ Jammeh صاحب دوڑے پھرتے رہے اور جو کچھ ان کے ساتھ ہو چکی تھی وہی اب ان کے ساتھ کروا رہے ہیں اور اس کی باگ ڈور ساری پاکستان میں ہے اور وہ بیچارے سمجھ رہے ہیں کہ ہمیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ساری ہماری نظر ہے۔اس کی دو وجوہات ہیں۔اول تو یہ کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ انہی لوگوں میں سے کچھ نیک نفس جماعت کے حمایتی اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنی حکومت کو بتائے بغیر وہ جماعت کو اطلاع کرتے ہیں حالانکہ جماعت سے اُن کا کوئی تعلق بھی نہیں۔اس لئے یہ خیال کہ ہماری جاسوسی کا کوئی اثر ہے ہر گز غلط اور جھوٹا خیال ہے۔ایک ذرہ بھی ہمیں جاسوسی کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ ہمارا نگران ہے اور وہی معاملات پر نظر رکھتا ہے اور ہمیں