خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 333

خطبات طاہر جلد 17 333 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء ہوئے خدا کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہے وہ بھی وہی ہے جس نے سب کچھ بیچ دیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ” ایسے ذوق و شوق وحضور دل سے بجالاتا ہے۔میں نے جو یہ کہا تھا تمنا ئیں اور محبتیں لے کے حاضر ہوتا ہے یہ اس کا ترجمہ ہے،حضور دل سے بجالاتا ہے اس کا دل تمام تر یہ چاہتا ہے کہ جس حد تک خدمت ممکن ہے میں کروں۔” گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے محبوب حقیقی کو دیکھ رہا ہے۔اس کی فرمانبرداری کا ایک شیشہ اس کے سامنے ہے اور اس میں اسے اپنی ذات دکھائی نہیں دیتی وہ محبوب دکھائی دیتا ہے جس کی خاطر اس نے اپنی ساری زندگی کو ایک نئی صورت میں ڈھال دیا۔اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادہ سے ہم رنگ ہو جاتا ہے۔(جو اللہ کا ارادہ وہی اس کا ارادہ ، جو مالک کا ارادہ وہی غلام کا ارادہ ) اور تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر جاتی ہے۔“ اب یہ لفظ ٹھہر جاتی ہے قابل غور ہے۔فرمایا کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا میں ایسی لذت نہیں ملتی کہ جو آئے اور چلی جائے وہ لذت اس کے دل میں پناہ گزین ہو جاتی ہے۔وہ لذت ایسی ٹھہرتی ہے کہ پھر جانے کا نام نہیں لیتی۔پس وہ سب لوگ مستقلی ہیں جو بھی اللہ کی رضا میں محبت پاتے ہیں ،مزہ دیکھتے ہیں اور کبھی نہیں دیکھتے۔بہت سے ایسے انسان ہیں، کثرت سے ایسے انسان ہیں جو اللہ کی رضا سے کبھی نہ کبھی تو ضرور لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اپنی جان نہیں بیچی ہوتی اس لئے وہ محبت آکر ٹھہر نہیں جاتی ، آئی اور چلی گئی اور دوسری لذتیں پھر اس کی جگہ اپنا ٹھکانہ دل میں بنالیتی ہیں اور اس طرح وہ خدا کے بندے جو جان بیچنے والے ہیں دوسرے بندوں سے ممتاز ہوکر الگ ہو جاتے ہیں۔یہ ایک بہت گہری حقیقت ہے جس کی طرف میں آپ کو خصوصیت سے متوجہ کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ حقیقت بیان کر کے ہماری آنکھوں سے پردے اٹھا دئے ہیں۔ہم میں سے بکثرت ایسے ہیں جنہوں نے کبھی نہ کبھی اللہ کی رضا کے نتیجہ میں دل کو لذت سے معمور ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔بعض ایسے ہیں جن کے بدن پہ جھر جھری طاری ہو جاتی ہے جب وہ خدا کے کسی خاص انعام پر غور کرتے ہیں یا کسی خاص مصیبت سے اللہ تعالیٰ ان کو نجات بخشتا ہے تو واقعہ ان کے دل میں اللہ کا پیار ایک لذت بن کے اترتا ہے لیکن ٹھہرتا نہیں۔آیا اور چلا گیا اور پھر دنیا کی لذتیں