خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 332

خطبات طاہر جلد 17 332 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء خاطر اس کا جان بیچنا تو شاید بعض نگاہوں کو دکھائی نہ دے مگر اس کی مخلوق کی خاطر جو جان بیچتا ہے وہ تو سب کو دکھائی دیتا ہے، ساری مخلوق اس پر گواہ ہو جاتی ہے اور اس بات پر بھی گواہ ہو جاتی ہے کہ وہ ان سے فائدے کی خاطر کچھ نہیں کرتا کیونکہ وہ فائدہ اٹھاتا نہیں۔وہ جب شکر یہ ادا کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارا شکریہ ادا نہ کرو۔ہم تو رضائے باری تعالیٰ کی خاطر یہ کام کر رہے ہیں۔تم شکر یہ ادا کرتے ہو تو ہمیں کوفت ہوتی ہے۔ہم نے تو اپنا سودا اللہ سے کیا ہے۔تو یہ دعویٰ محض دعویٰ نہیں رہتا لمحہ لمحہ اس دعوی کا ثبوت ان کی زندگی مہیا کرتی ہے۔وہ جب بنی نوع انسان کی خدمت کرتے ہیں تمام بنی نوع انسان گواہ ہو جاتے ہیں کہ یہ اپنی خاطر خدمت نہیں کر رہے تھے ہم سے کچھ لینے کی خاطر خدمت نہیں کر رہے تھے بلکہ اللہ سے کچھ لینے کی خاطر خدمت کر رہے تھے تو محض دعوئی ، دعوی نہیں رہتا بلکہ ایک قطعی ثبوت اس کی تائید میں اٹھ کھڑا ہوتا ہے جس کو رد نہیں کیا جاسکتا۔اور پھر حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق ہیں۔ایسے ذوق و شوق و حضور دل سے بجالاتا ہے کہ گو یاوہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے محبوب حقیقی کو دیکھ رہا ہے۔“ اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کو آپ غور سے پڑھا کریں تو پھر آپ کو ان ارشادات کی لطیف باتیں سمجھ آسکتی ہیں۔اپنے تمام وجود کو سر سے پاؤں تک، تمام وجود کو، جو جان بیچتا ہے وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں رکھتا جو طاعت خلق اور خدمت خلق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے۔پھر حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق ہیں یعنی انسان کو اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی صلاحیتیں بخشی ہیں ان تمام صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے وہ اللہ کے دین اور اس کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور ہر ایک کی صلاحیتیں الگ الگ ہیں مگر جس چھا بڑے میں جو کچھ ہو گا وہی تو بیچے گا۔پس ایک غریب انسان بھی اسی طرح اپنا سب کچھ بیچنے والا بن جاتا ہے جس طرح ایک امیر انسان اپنا سب کچھ بیچنے والا بن جاتا ہے۔توفیق تو اس کی اپنی بنائی ہوئی نہیں، تو فیق تو اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوتی ہے۔پس مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4) کا یہ معنی ہے کہ جو کچھ وہ بیچتا ہے وہ وہی کچھ ہے جو ہم نے اس کو دیا تھا اس میں سے پھر کچھ اپنے لئے نہیں رکھتا تمام تر پیش کر دیتا ہے۔پس اگر کسی کی قسمت میں، کسی کے مقدر میں ایک کھوٹی کوڑی بھی ہو یعنی کچھ بھی نہ ہو تو اپنا خالی دامن لے کر اس میں خدا کی محبت اور تمناؤں سے جھولی بھر کر بظاہر خالی دامن میں اپنی محبت اور نیک تمناؤں کی جھولی اٹھائے