خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 326 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 326

خطبات طاہر جلد 17 326 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء ڈگمگا جائیں اور تم پھسل جاؤ بعد اس کے کہ کھلے کھلے نشانات تم تک آچکے ہوں۔فَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَکیم تو خوب جان لو کہ اللہ بہت غالب اور بزرگی والا اور بہت حکمت والا ہے۔ان آیات میں جو طرز بیان ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا کی مرضی کو چاہنے والے لمحہ لمحہ اس کا انتظار کرتے ہیں۔مرضات کا لفظ جمع ہے اسے محض رضا کہنا کافی نہیں۔اگر چہ رضا بھی جمع کے مضمون یا معنوں میں بعض دفعہ استعمال کی جاتی ہے مگر میرے نزدیک مرْضاتِ کا استعمال واضح طور پر یہ بتارہا ہے کہ لمحہ لمحہ اس کی رضا کی نظروں کی خاطر اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں۔یہ بہت ہی عظیم کلام ہے جو خاص طور پر انصار اللہ کے لئے ایک بہت بڑی نصیحت ہے۔انصار اللہ وہ خدا کے بندے ہیں جو عمر کے ایسے گروہ میں داخل ہو چکے ہیں جہاں سے پھر خدا ہی کے حضور پیشی ہے اس کے بعد اور کوئی مقام نہیں۔پس کتنے سانس باقی ہیں کہ انہیں غیر اللہ کی خاطر لو گے۔جتنے بھی سانس نصیب ہیں وہ سارے کے سارے اللہ کی رضا کی خاطر اس طرح پیش کر دینے چاہئیں کہ گویا اپنی جان بیچ ڈالی۔یہی وہ وقت ہے جب آپ توجہ کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحے لمحے پر نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ کیا واقعہ آپ کی زندگی کا ہرلمحہ اللہ کی رحمت کا اور اس کی رضا کا انتظار کر رہا ہے کہ نہیں۔يُشْرِى نَفْسَهُ کے بعد باقی اپنا تو کچھ بچتا نہیں جو کچھ ہے وہ گویا بیچ ڈالا اور سودا یہ ہے کہ جب بھی خدا کی نظر پڑے محبت کی نظر پڑے۔اس کی خاطر جب اپنی جان پیچ ہی ڈالی تو رہا کیا باقی ، اختیار تو کوئی نہیں اور اگر یہ نہیں تو پھر آپ نے اپنی زندگی کا مقصد پورا نہ کیا۔پس اگر چہ اس آیت کا اطلاق تمام مومنوں پر جو شعور رکھتے ہیں کسی بھی عمر کے ہوں ان پر ہوتا ہے لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انصار اللہ پر اس کا اطلاق بہت زیادہ شدت کے ساتھ ہوتا ہے۔حضرت رسول اللہ صلی الہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے صحابہ تھے جو یہی کیا کرتے تھے کہ لمحہ لمحہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی السلام کا انتظار رہتا تھا کہ اب کوئی ایسی بات کہیں جو ہمارے لئے از دیا دایمان کا موجب بنے یا اس آیت کے اطلاق کے طور پر میں یہ کہوں گا کہ شاید ہماری کسی ادا پر محمد رسول اللہ صلی الہ سلم کے پیار کی نگاہیں ہم پر پڑیں اور جیسا کہ میں نے احادیث کا مطالعہ کیا ہے بکثرت ایسے صحابہ تھے جو خصوصیت کے ساتھ رسول اللہ صلی یتیم کی محبت کی نظر کی تلاش میں آپ صلی ا یہ تم کے سامنے بیٹھا کرتے تھے شاید کوئی ایسی ادا ہو جس پر محمد رسول اللہ صلی یا یہ تم پیار سے