خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 316
خطبات طاہر جلد 17 316 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء پس اس کے لئے اپنی توفیق کے مطابق وقت زیادہ ہو تو زیادہ، کم ہو تو کم توجہ کریں اور آپ کو میں یقین دلاتا ہوں کہ ہر قسم کے اعتراضات کے جواب دینے کی آپ کو مہارت نصیب ہو جائے گی۔بارہا خطوط آتے ہیں۔یہ مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ ہیں : ” کہ فلاں شخص نے اعتراض کیا اور ہم جواب نہ دے سکے اس کی وجہ کیا ہے۔یہی کہ وہ لوگ یہاں نہیں آتے اور ان باتوں کو نہیں سنتے جو خدا تعالیٰ اپنے سلسلہ کی تائید میں علمی طور پر ظاہر کر رہا ہے۔پس اگر تم واقعی اس سلسلہ کو شناخت کرتے ہو اور خدا پر ایمان لاتے ہو اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا سچا وعدہ کرتے ہو تو میں پوچھتا ہوں کہ اس پر عمل کیا ہوتا ہے۔کیا كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ کا حکم منسوخ ہو چکا ہے۔؟“ اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ صدق صرف سچ بولنے کا نام نہیں۔اسلامی اصطلاح میں جس کو صادق کہا جاتا ہے وہ سچ بولنے سے بہت زیادہ آگے اور وسیع اصطلاح ہے۔صادق سے صرف یہی مراد نہیں کہ انسان زبان سے جھوٹ نہ بولے۔یہ بات تو بہت سے ہندوؤں اور دہریوں میں بھی ہو سکتی ہے۔“ یہ امر واقعہ ہے کہ ہم کئی دفعہ ایسے ہندوؤں سے ملتے ہیں۔میں خود بھی مل چکا ہوں۔اور دہر یہ مغربی لوگوں سے مل چکا ہوں جن میں یہ خوبی پائی جاتی ہے کہ وہ زبان سے جھوٹ نہیں بولتے۔صادق سے مراد وہ شخص ہے جس کی ہر بات صداقت اور راستی ہونے کے علاوہ اس کے ہر حرکات و سکنات وقول سب صدق سے بھرے ہوئے ہوں۔“ یعنی سچائی کی باتیں جب وہ کرتا ہے، کچی باتیں کرتا ہے مگر جب وہ سچی باتیں کرتا ہے تو وہ ساری سچی باتیں اس کے عمل میں نہیں ڈھلتیں۔یہ فرق ہے مومن صادق اور غیر مومن صادق کا۔جو غیر مومن سچ بولنے والا ہے وہ ہزار سچ بولے لیکن دل میں خود بخود جانتا ہے کہ میرے لئے اس پر عمل مشکل ہے اور میں نہیں کر سکتا۔چنانچہ میری ایسی مجالس میں واضح طور پر اقرار کرتے ہیں کہ بالکل ٹھیک کہا ہے یہی اسلام کی تعلیم ہونی چاہئے مگر ان کے چہروں سے دکھائی دیتا ہے کہ وہ عمل نہیں کر سکیں گے، تو یہ صدق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔