خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 311
خطبات طاہر جلد 17 311 خطبہ جمعہ 8 مئی 1998ء اس سے پہلے اگر چہ نفس مطمئنہ کا ذکر گزر چکا ہے مگر اب چونکہ تدریج میں ذکر فرمارہے ہیں اس لئے آخر پر پھر نفس مطمنہ کا ذکر ضروری تھا۔پھر فرماتے ہیں: ”صادقوں کی صحبت میں رہنا ضروری ہے بہت سے لوگ ہیں جو دور بیٹھے رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ کبھی آئیں گے ، اس وقت فرصت نہیں ہے۔بھلا تیرہ سوسال کے موعود سلسلہ کو جو لوگ پالیں اور اُس کی نصرت میں شامل نہ ہوں اور خدا اور رسول صلی یتیم کے موعود کے پاس نہ بیٹھیں وہ فلاح پاسکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔“ یعنی دُور کی بیعت ان معنوں میں کہ بیعت کی اور دُور ہی بیٹھے رہے اس کے نتیجہ میں فلاح نصیب نہیں ہو سکتی۔اب جو زمانہ آ گیا ہے اس میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کروڑ سے بہت آگے بڑھ چکی ہے اور ایسے دن آنے والے ہیں جبکہ ہر سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے کروڑوں انسان جماعت میں داخل ہونگے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ سارے یہاں آجائیں۔اس چھوٹی سی مسجد میں یا کسی بڑی مسجد میں بھی میں بیٹھا ہوں ناممکن ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو شخص نمائندگی کر رہا ہو، جب بھی کر رہا ہو ساری دنیا کے کروڑ ہا لوگ ان کے پاس پہنچ جائیں اور اگر نہ پہنچیں تو ان پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فتویٰ صادر ہو جائے کہ ہر گز فلاح نہیں پاسکتے۔اس دور میں اللہ تعالیٰ نے MTA ہمیں عطا فرما دی ہے اور دور بیٹھنے والوں کو بالکل یہی احساس ہوتا ہے کہ گویا وہ اسی مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔چاہے دُنیا کے کسی کونے میں بس رہے ہوں ان کے دل پر اتنا گہرا اثر پڑتا ہے مجلس کا کہ ان کو خیال بھی نہیں گزر رہا ہوتا کہ وہ کہیں اور بیٹھے ہوئے ہیں۔بالکل ہمارے اندر، بیچ میں اسی احساس کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں جس طرح آپ یہاں ایک احساس کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں۔بہت سے خطوط مجھے ملتے ہیں وہ کہتے ہیں ہم ایسی صورت میں اپنے آپ سے بالکل کھوئے جاتے ہیں یہاں تک کہ چھوٹے بچے ہیں وہ تو اٹھ اٹھ کر ٹی وی کی سکرین کو انگلیاں لگاتے ہیں۔ایک بچی نے لکھا کہ مجھے امی نے ساری بات سمجھائی کہ أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ کا کیا مطلب ہے اور یہ انگوٹھی کیوں پہنتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی انگوٹھی جو آپ پہنتے ہیں اس کا قصہ بھی سنایا تو کہتی ہیں مجھے بے اختیار جب آپ کا ہاتھ انگوٹھی والا نظر آیا تو دوڑ کے گئی اور سکرین پر منہ لگا دیا کہ اس انگوٹھی کو چوموں۔اب یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں۔یہ محبت کے بے انتہا اور غیر اختیاری مظاہر ہیں جو