خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 20
خطبات طاہر جلد 17 20 20 خطبہ جمعہ 9 جنوری 1998ء اور اب خصوصیت سے اس رمضان میں اس کی ضرورت ہے۔جو جمعہ آج طلوع ہوا ہے یہ ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تمام دنیا کے مولویوں کو جو شرارت میں پیش پیش تھے اور ہیں ان کو میں نے 10 جنوری 1997ء یعنی پچھلے سال رمضان المبارک کے آغاز میں یہ چیلنج دیا تھا آج بھی 10 رمضان المبارک ہے تو Friday the 10th بھی دونوں طرح سے پورا اتر رہا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے اپنی طرف سے وہ ایسے انتظام فرماتا ہے کہ بعض خوشخبریوں کو اس طرح ترتیب دے دیتا ہے کہ صاف دکھائی دیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے۔پس 10 جنوری کو جمعہ کے دن جو میں نے پینج دیا تھا آج 10 رمضان المبارک میں وہ سال پورا ہورہا ہے۔اس سال میں کس حد تک ہمیں کامیابیاں نصیب ہوئی ہیں یہ ایک کھلی کھلی حقیقت ہے، کھلی کھلی کتاب ہے جسے دشمن بھی پڑھ سکتا ہے، پڑھ رہا ہے اور بے چین ہے اور خطرناک جوابی حملوں کی کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں اور ان کی تفصیل میں سر دست تو میں نہیں جاؤں گا لیکن میں اشارہ آپ کو بتا دوں گا۔سب سے پہلے میں اپنی عبارت آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ یہ علماء جو اس مباہلہ کو غلط معنی دیتے ہیں اور انفرادی مباہلوں کی طرف اور ڈوبد و مباہلوں کی طرف کھینچ کے لے جانے کی کوشش کرتے ہیں یہ مباہلہ ہرگز اس قسم کے مباہلوں سے تعلق نہیں رکھتا۔ایک یک طرفہ دعا تھی جس میں ان کو بھی دعوت دی گئی تھی کہ شامل ہو جاؤ اور پھر دیکھو کہ تمہاری دعائم پر الٹتی ہے یا نہیں ، ہماری دعا ہم پر الٹتی ہے یا نہیں اور تم سے خدا کا کیا سلوک ہو رہا ہے اس عرصہ میں اور ہم سے کیا سلوک ہو رہا ہے۔یہ کھلی کھلی بات تھی۔یہ سال گزر گیا اور یہ بات واضح ہو چکی۔اب گزرے ہوئے سال کے واقعات کو وہ تبدیل نہیں کر سکتے۔اس کی تفصیل انشاء اللہ وقت ملا، موقع ملا تو جلسہ سالانہ کے خطاب میں میں انشاء اللہ آپ کے سامنے پیش کروں گا۔الفاظ سن لیجئے تا کہ آپ کو یاد دہانی ہو جائے۔تم نے معاملات کو آخری حد تک پہنچا دیا ہے اور اس پہلو سے اللہ تمہیں مہلت بھی دے رہا ہے اور دے چکا ہے مگر تمہارے پکڑنے کے دن آئیں گے اور لازماً آئیں گے۔یہ وہ تقدیر ہے جسے تم ٹال نہیں سکتے۔“ اب پاکستانی اخبارات اور دنیا بھر کے اخبارات کی رُو سے جب میں اعداد و شمار آپ کو سناؤں گا تو آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ دن آگئے ہیں کہ نہیں آئے۔بالکل کھلی کھلی حقیقت ہے۔