خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 305
خطبات طاہر جلد 17 305 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء کی طرح بننے کی کوشش کرو گے۔پس اس کے صدق کے ساتھ تمہارے اندر ارتقا کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔جب تک تم اس صادق کی تمام حسین صفات کو اپنا نہیں لیتے اس وقت تک تم آگے بڑھتے چلے جاؤ گے اور ایک صادق اگر خود لامتناہی صفات نہیں رکھتا تو صادق بنتا ہی جب ہے جب اس کا تعلق آنحضرت صلی ال ایام سے ہو۔وہ ایک منزل ہوتا ہے، راستہ کی منزل ، جس پر قدم رکھ کر وہاں قدم رک نہیں جایا کرتے۔وہ آگے آپ کو حضور اکرم صلی ا یہ تم کی صحبت کی طرف لے جاتا ہے اور وہ صحبت ایسی ہے جو خدا کی صحبت ہے۔پس اسلام کے اندر لا متناہی ترقیات کے راستے کھول دئے گئے ہیں اور اس آیت كُونُوا مَعَ الصّدِقِینَ کی ہر تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک نئے رستہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ ہر رستہ آسان بھی ہے اور کامل بھی ہے۔پس آپ سب کو مجالس شوری کے ممبران ہیں یا ویسے ہی ان سب کو جو شوری کی وساطت سے میرے مخاطب ہیں یعنی تمام دنیا کے احمدی، ان سب کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ كُونُوا مَعَ الصدِقِينَ کا سبق پلے باندھ لیں۔جو باقی باتیں رہ گئی ہیں وہ انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں بیان کر دوں گا مگر جو بیان کی ہیں یہ بھی بہت ہیں۔اتنی ہیں کہ اگر آپ ان پر عمل کریں تو ساری زندگی سنور سکتی ہے۔نومبائعین کو بھی پیار اور حکمت کے ساتھ یہی باتیں سمجھا ئیں۔پھر انشاء اللہ آپ کو قرآن کی سچی معرفت نصیب ہونا شروع ہوگی کیونکہ قرآن کی معرفت حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ایام کے کردار کے حوالے کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی۔پھر آپ کو یہ عادت پڑ جائے گی کہ قرآن کریم کی جو بھی تشریح کرنے لگیں اپنے نفس اور اپنی خواہش کے مطابق نہ کریں جیسا کہ آج کل کے بدنصیب علماء کرتے ہیں۔ہر تشریح کو رسول اللہ صلی لی ایم کے کردار پر پرکھیں۔آپ صلی ایام کا کردار غلط تشریحات کو جھٹک دے گا، اپنے جسم سے مس تک نہیں ہونے دے گا اور جو سچی تشریحات ہیں وہ بعینہ آنحضرت صلی یا یہ ستم کے کردار کے مطابق ہوں گی۔پس آج جبکہ علوم کا زمانہ ہے اور ہم سب نے دنیا میں کثرت سے قرآنی علوم پھیلانے ہیں اس کا بھی یہی رستہ ہے کہ کُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین