خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 304 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 304

خطبات طاہر جلد 17 304 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے۔اسی لئے قرآن شریف فرماتا ہے یا تھا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ۔( اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقوی اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور انتقا کے مدارج کامل طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتے جب تک صادق کی معیت اور صحبت نہ ہو۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک ایک ارشاد بہت باریک نظر سے پڑھنے کے لائق ہے اور لوگ سرسری نظر سے پڑھ کر گزر جاتے ہیں ان کو پتا نہیں کہ کتنے معارف اس میں چھپے ہوئے ہیں۔ایمان کے ساتھ مومن کے اندر ایک ارتقا ہورہا ہوتا ہے۔اگر وہ سچا ہے اور سچوں کی صحبت اختیار کرتا ہے تو لازم ہے کہ اس کے اندر ارتقا ہو۔ہر روز حالت بدلے اور وہ کبھی بھی پہلا وجود نہ رہے۔مسلسل آگے بڑھتا ہوا، قرب الہی کی نعمت سے فیض یاب ہوتا ہوا آگے سے آگے بڑھتار ہے اس کو ارتقا کہتے ہیں۔فرمایا: ایمان اور اتقا کے مدارج کامل طور پر (سچوں کی محبت کے بغیر ) کبھی حاصل نہیں ہو سکتے جب تک صادق کی معیت اور صحبت نہ ہو کیونکہ اُس کی صحبت میں رہ کر وہ اس کے انفاس طیبہ ، عقد ہمت اور توجہ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔“ الحکم جلد 6 نمبر 12 صفحہ: 7 مؤرخہ 31 مارچ 1902ء) یہ جو مضمون ہے اس میں مجھے ایک اور مضمون بھی نظر آ رہا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی سلیم ایم کے متعلق یہ کیوں فرمایا گیا کہ ہر حال میں ، ہر لمحہ آپ صلی شما کی ستم کی حالت پہلے سے بہتر ہو رہی ہے کونوا مع الصدِقِينَ کا مضمون آپ صلی اللہ ہی تم پر صادق آ رہا تھا کیونکہ آپ صلی یہ تم کا تعلق خدا سے تھا اور مسلسل اللہ سے تعلق کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن کا کوئی انت نہیں ، جن کی کوئی انتہا نہیں وہ صفات آ ملی یہ ہم کو اپنی طرف بلا رہی تھیں جو ہمیشہ آپ صلی اینم کو ایک لا متناہی سفر میں مبتلا کر رہی تھیں اور جو خدا تعالیٰ کی طرف سفر اختیار کرتا ہے وہ ہمیشہ ہر حال میں پہلے سے بہتر ہو رہا ہوتا ہے۔پس کتنا عظیم مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان چھوٹے چھوٹے اشاروں میں بیان فرما دیتے ہیں کہ صادقوں کی معیت میں تم اگر صدق کے ساتھ بیٹھو گے تو لازم ہے کہ صادق