خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 303
خطبات طاہر جلد 17 303 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء شریعت کی کتابیں حقائق اور معارف کا ذخیرہ ہوتی ہیں لیکن حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیں مل سکتی جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے۔“ صادق کی صحبت میں اخلاص اور صدق ضروری ہے۔كُونُوا مَعَ الصّدِقِيْنَ میں صدق کے بغیر كُونُوا مَعَ الصدِقِينَ کا مضمون چلتا ہی نہیں ہے۔جس نے بھی صادقین کے پاس بیٹھنا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ صدق کے ساتھ ،سچائی کے ساتھ بیٹھے اور اخلاص کے ساتھ اس کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے۔فرماتے ہیں: ” جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق کے ساتھ اختیار نہ کی جاوے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ صادقوں کی صحبت مشروط ہے اس بات سے کہ صحبت اختیار کرنے والا صادق ہو ورنہ وہ کوئی فائدہ نہیں دے گی۔آنحضرت مصلی یتیم کی ظاہری صحبت میں تو ابو جہل بھی بیٹھ جایا کرتا تھا اور مکہ کے بہت سے ایسے بدباطن شخص جو بدی کی حالت میں پہلے سے زیادہ گمراہ ہو کر مر گئے وہ بھی آنحضور صلی شما ای یام کی صحبت میں آجایا کرتے تھے۔آپ صلی للہ الیتیم کی مجالس میں خبیث ترین منافقین بھی ہوا کرتے تھے۔ان کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔پس حضور اکرم صلی لی ایم کی صحبت سے صرف انہوں نے فائدہ اٹھایا جن کے اپنے اندر صدق کا بیج تھا۔پس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام كُونُوا مَعَ الصدقین کی یہ تشریح آپ کے سامنے پیش فرما رہے ہیں جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے اس وقت تک حقائق و معارف کی جو کتابوں میں ہیں اطلاع نہیں ہوتی۔اب ایک قرآن کریم کو سمجھنے کا بھی رستہ بیان فرما دیا۔اس لئے محض صحبت کی باتیں نہیں ہور ہیں ، صحبت کے مختلف فوائد کا ذکر فرما رہے ہیں اور جب بھی اس آیت کی تشریح فرماتے ہیں ایک نیا نکتہ بیان فرماتے ہیں۔یہ بات دنیا کے کسی اور مفسر کو نصیب نہیں ہوئی۔آنحضرت سلیم کے زمانہ سے آج تک کے زمانہ پر نظر ڈال کر دیکھیں یہ باتیں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہوئیں۔فرماتے ہیں: شریعت کی کتابیں حقائق و معارف کا ذخیرہ ہوتی ہیں۔لیکن لوگ انہی کتابوں کو پڑھتے ہیں اور گمراہ ہو جاتے ہیں، انہی کتابوں کے حوالے سے لوگوں کو گمراہ کر دیتے ہیں۔) حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیں مل سکتی جب تک صادق کی صحبت