خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 302
خطبات طاہر جلد 17 302 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء غالب آجاتا ہے۔اور بڑی سے بڑی چیز کو بھی آخر مغلوب کر لیتا ہے۔خمیر لگنے کا مضمون بہت گہرا مضمون ہے۔میں نے پہلے ایک دفعہ یا کئی دفعہ شاید بیان کیا ہے کہ اگر ایک سمندر بھی ہو اور اس میں تھوڑا سا خمیر ڈال دیں یعنی دودھ کا ایک سمندر بھی ہو تو وہ اس خمیر سے پھٹ سکتا ہے۔اگر آٹے کا سمندر ہو تو ایک کونے میں تھوڑا سا خمیر ڈال لیں وقت لگے گا لیکن ہو نہیں سکتا کہ وہ سارا سمندرخمیر نہ ہو جائے۔پس یہ مضمون ہے کہ نیک کی صحبت اپنے اندر ایک غلبہ رکھتی ہے، ایک طاقت رکھتی ہے۔نیکی میں جو غلبہ کی طاقت ہے اگر تم نیک نیتی سے اس نیک کے پاس بیٹھو گے تو خواہ تمہارا باقی سارا وجود نیکی سے بے تعلق ہی کیوں نہ ہو یقین رکھو کہ اگر پیار اور محبت کے نتیجہ میں کسی نیک کے پاس بیٹھے رہو گے تو اس کا خمیر تمہارے سارے وجود پر غالب آجائے گا۔اب اس ایک ستر میں ہمارے بے انتہا مسائل بیان ہو گئے ہیں۔بارہا میں نے جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ اپنے وجود کے اندر ہر پہلو پر نظر ڈالو، ہر پہلو سے نیک ہونا ضروری ہے ورنہ کلیۂ خدا کے حضور قبول نہیں کئے جاسکتے۔اس کے اور بھی بہت سے رستے تھے جو مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے حوالے سے میں نے بیان کئے مگر ایک یہ رستہ مجھے بہت ہی پیارا لگا ہے اتنا آسان کہ اس میں کوئی بھی زور نہیں لگتا کوئی مصیبت پیش نہیں آتی محنت کے ساتھ قدم نہیں اٹھانے پڑتے خمیر از خود لگتا چلا جاتا ہے اور اگر آپ کسی نیک کی صحبت اس کی نیکی کی وجہ سے اختیار کریں گے تو آپ حیران ہوں گے کہ آپ کے اندر تبدیلی ہو رہی ہے، ہوتی چلی جارہی ہے۔پتا بھی نہیں لگ رہا کہ کیسے ہوئی مگر بغیر مشقت ، بغیر محنت کے اگر کوئی انسان نیک ہونا چاہتا ہے تو اس نکتہ کو پکڑ لے۔فرماتے ہیں: خمیر سے خمیر لگتا ہے اور یہی قاعدہ ابتدا سے چلا آتا ہے۔پیغمبر خدا صلی ایم آئے تو آپ صلی للہ الیتیم کے ساتھ انوار و برکات تھے جن میں سے صحابہ نے بھی حصہ لیا۔پھر اسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت پہنچی۔“ (البدر جلد 1 نمبر 4 صفحہ : 31 مؤرخہ 21 نومبر 1902ء) سارے عرب کی جو کایا پلٹی ہے وہ خمیر در خمیر سے کایا پلٹی ہے ورنہ اکیلے آنحضور صلی ایام کس طرح عرب پر اپنے پاک وجود کو نافذ فرما سکتے تھے۔؟ یہی ایک طریقہ ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ازل سے اسی طرح چلا آ رہا ہے کہ خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ آنحضور صلی ا یتیم کے صحابہ کی تعداد ایک لاکھ تک جا پہنچی۔پھر فرماتے ہیں: