خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 301 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 301

خطبات طاہر جلد 17 301 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء اب یہ ایک اور نکتہ ہے جو بہت ہی اہم ہے۔میں نے بھی اکثر اپنے تجربہ میں دیکھا ہے کہ بعض دفعہ نئے آنے والے ہوتے ہیں اس مجلس میں جو میں بات کر رہا ہوتا ہوں وہ ان میں سے بعض کے مزاج کے خلاف ہوتی ہے اگر وہ چھوڑ کر چلے جائیں تو ہمیشہ گمراہ ہی رہتے ہیں۔جب وہ بار بار آئیں تو اللہ ان کو وہ نکتہ سمجھا دیتا ہے اور یہ بات میں ان آنے والوں کے اعتراف کے مطابق بیان کر رہا ہوں۔ان آنے والوں نے بارہا مجھ سے اعتراف کیا ہے کہ جب ہم پہلی دفعہ مجلس میں آئے تھے تو فلاں چیز دل کو نہیں لگی لیکن ہم پھر بھی آئے ، پھر بھی آئے اور یہاں تک کہ آپ نے ایک ایسا پہلو بیان کیا جس کی طرف ہمارا خیال بھی نہیں گیا تھا اور وہ پہلی بات دل میں اس طرح جا بنا گئی کہ پھر کبھی وہ دل کو چھوڑ کر کہیں نہ جائے۔یہ وہ مضمون ہے جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی تحریرات میں باریکی کے ساتھ کھول رہے ہیں: جیسے آج میں ساری باتیں بیان نہیں کر سکتا۔ممکن ہے کہ بعض آدمی ایسے ہوں جو آج ہی کی تقریر سن کر چلے جاویں اور بعض باتیں اس میں ان کے مذاق اور مرضی کے خلاف ہوں تو وہ محروم گئے لیکن جو متواتر یہاں رہتا ہے وہ ساتھ ساتھ ایک تبدیلی کرتا جاتا ہے اور آخر اپنے مقصد کو پالیتا ہے۔“ (احکام جلد 6 نمبر 26 صفحہ:11 مؤرخہ 24 جولائی 1902ء) انسان کو انوار و برکات سے حصہ نہیں مل سکتا جب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ كُونُوا مَعَ الصّدِقِینَ۔(سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔“ اب اس آیت کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار دہرایا ہے لیکن میں تو جب بھی اس کی تشریح پڑھتا ہوں اس میں نئے نکات دیکھتا ہوں۔بظاہر ایک ہی جیسی بات ہو رہی ہے مگر کوئی نہ کوئی زاویہ ایسا ہے جس کی رو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس آیت کے اندر مخفی بعض دوسرے مضامین بھی بیان فرما جاتے ہیں۔فرماتے ہیں: بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیر لگتا ہے۔“ اب یہ نئی بات ہے۔سچوں کے ساتھ اس لئے ہو کہ تم خمیر کو دیکھو جب تک خمیر نہ ڈالا جائے دوسرے آئے کو خمیر لگتا ہی نہیں۔تم اس لئے سچوں کے ساتھ ہو کہ تمہیں ان کا خمیر لگ جائے اور جب خمیر لگ گیا تو خمیر