خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 300

خطبات طاہر جلد 17 وو 300 خطبہ جمعہ 1 مئی 1998ء وہ اپنے دوستوں کے امراض کی تشخیص کر کے حسب موقع ان کی اصلاح بذریعہ وعظ و نصیحت کرتا رہتا ہے۔“ اب جو لوگ بھی ایسے مامورین کے قریب آتے ہیں وہ اُن کے حالات دیکھ کر اُن کی بیماریوں کی تشخیص بھی کرتا ہے اور ہر موقع پر ایک ہی طرح کے بیمار نہیں آتے۔کبھی کوئی بیمار آیا، کبھی کوئی بیمار آیا ان کی تشخیص کرتا ہے اور ان کا علاج تجویز کرتا ہے۔تو آپ دیکھ لیں احادیث کو سمجھنے کی کتنی زبر دست کنجی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے ہاتھوں میں تھما دی ہے۔حضرت اقدس رسول اللہ صل شما ایام سے جب کوئی شخص سوال کیا کرتا کہ بتا ئیں میں کیا کروں۔کسی کو کوئی نصیحت فرماتے تھے، کسی کو کوئی نصیحت فرماتے تھے حالانکہ بعض دفعہ سوال ایک ہی جیسا ہوتا تھا۔عرض کرنے والا عرض کیا کرتا تھا کہ سب سے اچھا عمل کون سا ہے۔کسی مجلس میں آپ ملائیشیا کی تم یہ جواب دیتے تھے کہ سب سے اچھا عمل ماں کی خدمت کرنا ہے۔کسی مجلس میں ماں کی خدمت کی بجائے جہاد کا ذکر فرما دیتے تھے۔تو وہ لوگ جنہوں نے پہلے آنحضرت مصلی یا کہ تم کی احادیث پر غور کیا ہے ان میں سے کوئی بھی اس نکتہ کو نہیں پہنچا، ایک بھی نہیں جس نے یہ بات ہمیں سمجھائی ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سمجھائی ہے کہ وہ حسب موقع دیکھ دیکھ کر باتیں فرماتے تھے۔اس لئے بظاہر سوال ایک جیسا بھی ہو جواب الگ الگ ہوتے تھے کیونکہ سوال کرنے والا الگ تھا اس کی بیماری کی تشخیص کئے بغیر صحیح جواب دیا ہی نہیں جا سکتا تھا۔پس یہ تشخیص والا پہلو ہے جو اس سے پہلے آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گا۔آنحضور سلایا کہ تم ہر شخص کی تشخیص فرماتے تھے۔اور یہ وہ نکتہ ہے جو قرآن کریم سے سو فیصد درست ثابت ہوتا ہے۔آپ صلی لا رہی تم پیشانیوں کے آثار پڑھ لیتے تھے۔سوال کرنے والے سے بعض دفعہ اس کے سوال سے پہلے ہی پوچھا کرتے تھے تم یہ سوال کرنے آئے ہو اور پھر اس کا جواب دیتے تھے۔پس مامور من اللہ کے پاس ہر حال میں بیٹھنا بہت ضروری ہے تا کہ ان سب قسم کے حالات میں مامور من اللہ جو باتیں کرے وہ آپ کے علم اور عمل اور تقویٰ میں اضافہ کرنے والی بن سکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں: اب جیسے آج میں ساری باتیں بیان نہیں کر سکتا۔ممکن ہے کہ بعض آدمی ایسے ہوں جو آج ہی کی تقریر سن کر چلے جاویں اور بعض باتیں اُس میں ان کے مذاق اور مرضی کے خلاف ہوں تو وہ محروم گئے۔“