خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 284

خطبات طاہر جلد 17 284 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء۔روایت ہے، خاکسار عرفانی جوان ایام میں محکمہ نہر میں امیدوار ضلعداری تھا اور رکھا نوالہ میں حافظ محمد یوسف صاحب ضلعدار کے ساتھ رہ کر کام سیکھتا تھا۔خاکسار عرفانی کو بھی فیروز پور جانے کی سعادت نصیب ہوئی۔جب آپ وہاں سے واپس آئے تو میں رائے ونڈ تک ساتھ گیا۔وہاں آپ نے از راہ کرم فرمایا کہ تم ملازم تو ہو ہی نہیں چلو لا ہور تک چلو تم نے کون سا جلدی لوٹنا ہے کسی کام کے لئے۔عصر کی نماز کا وقت تھا آپ نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوئے اس وقت وہاں چبوترہ ہوا کرتا تھا مگر آج کل وہاں ایک پلیٹ فارم ہے۔میں پلیٹ فارم کی طرف گیا تو پنڈت لیکھرام جس کو آریہ مسافر کہا کرتے تھے یہ آریہ لوگ۔پنڈت لیکھرام آریہ مسافر جوان ایام میں پنڈت دیا نند صاحب کی لائف لکھنے کے کام میں مصروف تھا۔ان کی حیات کے متعلق بائیو گرافی لکھ رہا تھا۔جالندھر جانے کو تھا کیونکہ وہ غالباً وہاں ہی کام کرتا تھا۔مجھ سے اس نے پوچھا کہ کہاں سے آئے ہو۔میں نے حضرت اقدس کی تشریف آوری کا ذکر سنایا تو خدا جانے اس کے دل میں کیا آئی کہ بھاگا ہوا وہاں آیا۔حضرت اقدس وضو کر رہے تھے۔میں اس نظارہ کو اب بھی گویا دیکھ رہا ہوں اس نے ہاتھ جوڑ کر آریوں کی طرح حضرت اقدس کو سلام کہا مگر حضرت نے یونہی آنکھ اٹھا کر سرسری طور پر دیکھا اور وضو کرنے میں مصروف رہے۔اس نے سمجھا شاید سنا نہیں اس لئے اس نے پھر کہا۔حضرت بدستور اپنے استغراق میں رہے۔وہ کچھ دیر ٹھہر کر چلا گیا۔کسی نے کہا کہ لیکھر ام سلام کرتا تھا۔لوگ اتنے مرعوب ہو جاتے ہیں ایسی ہستیوں سے ویسے بھی وہ دوڑا ہوا آیا تھا اور لوگوں کو خیال ہوا کہ یہ اخلاق کے خلاف ہے گویا کہ اس کی بات کا جواب نہ دینا۔تو کسی نے کہا کہ لیکھر ام سلام کرتا تھا۔فرمایا اس نے آنحضرت صلی اینم کی بڑی توہین کی ہے میرے ایمان کے خلاف ہے کہ میں اس کا سلام لوں۔آنحضرت صلی ا یتیم کی پاک ذات پر تو حملہ کرتا ہے اور مجھے کو سلام کرنے آیا ہے۔(سیرت المہدی جلد اول از حضرت مرزا بشیر احمد ایم۔اے، صفحہ:254، روایت نمبر :281) اب آپ اپنے گردو پیش نظر ڈال کر دیکھ لیں بعض ایسے بے غیرت لوگ ہیں کہ ان کو کوئی بے حیا، رسول الله مال تم پر حملہ کرنے والا ، دین پر حملہ کرنے والا، خلفاء کی گستاخیاں کرنے والا ، دین اسلام اور تمام مذاہب کے خلاف بد گو شخص، عزت سے کوئی چوہدری صاحب یا سلام کہہ دے کسی معزز نام سے خطاب کر لے وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس کے سامنے جھک جائیں۔