خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 278
خطبات طاہر جلد 17 278 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسول اکرم صلی یہ تم پر ایسے نا پاک حملے کئے جائیں۔“ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 ، صفحہ: 15/ سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد ایم۔اے صفحہ: 36،35) یہ بظاہر ایک مبالغہ لگ رہا ہے لیکن اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے یہ دو باتیں پیش ہوتیں کہ یا یہ سب کچھ ہو جائے گا یا تم یہ پسند کرو گے کہ رسول اللہ صلی السلام کے متعلق ایسی بکو اس کی جائے۔اس تقابل کی صورت میں لازماً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی رد عمل ہونا تھا۔اس لئے کوئی احمق اس کو مبالغہ نہ سمجھے۔اگر کسی کو کہا جائے یہ سب کچھ کر دیا جائے گا اب رسول اللہ صلی شما یہ تم کے خلاف گستاخی کو قبول کرو وہ کہے گا ہر گز نہیں کروں گا۔جتنے شہداء ہیں ان کی شہادت کے پیچھے یہی جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔آنحضرت صلیہ السلام کے زمانہ میں ایک صحابی جو قید کیا گیا اس کی گردن اڑانے سے پہلے اس سے یہی سوال کیا گیا کہ کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری گردن چھوڑ دی جائے اور تمہاری جگہ محمد رسول اللہ الا این کوکوئی گزند پہنچے۔اس نے کہا خدا کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کروں گا کہ میری گردن چھوڑ دی جائے اور محمد رسول اللہ صلی یہ تم کو مدینہ کی گلیوں میں کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔(السيرة الحلبية، الجزء الثالث، باب سراياه و بعوثه صفحه : 239) کتنا عظیم الشان عشق ہے، کیسی دل کی صفائی اور پاکیزگی ہے۔یہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں۔اگر وہ صحابی حضور اکرم صلی ای ایم سے یہ عشق رکھتا تھا تو مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام جو عشق کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے ان کا تصور کریں کہ ان کے دل کا کیا حال ہوگا۔پس ہر گز اس تحریر میں ایک ادنیٰ بھی مبالغہ نہیں جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کے سنائی ہے۔یہ مقام عشق اپنی جگہ، یہ غیرت اپنی جگہ لیکن اس کے باوجود جب اپنی ذات کے خلاف لوگ باتیں کرتے تھے ان کو برداشت کرتے تھے ان میں بڑا حلم دکھاتے تھے۔کئی لوگ وہاں آ کر سامنے کھلم کھلا گالیاں دیتے تھے مگر اپنے صحابہ کو روک دیا کرتے تھے کچھ نہیں کہنا۔اور جہاں بھی جوابی کارروائی کی ہے وہاں آپ حیران ہونگے یہ دیکھ کر کہ اللہ اور رسول سی ایم کے خلاف جب بھی کسی لکھنے والے نے بدتمیزی کی ہے تو اس کے جواب میں آپ کی سختی ہے۔اس کے سوا کہیں کوئی سختی نظر نہیں آتی۔ایک واقعہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ