خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 276
خطبات طاہر جلد 17 276 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء تو کوئی کھڑا ہوا وہاں تھوڑی سی خوشبو آپ کے اوپر پھیلا دیتا ہے۔وہ خوشبو جو آپ کے اوپر ڈالتا ہے یہ بتانے کی خاطر کہ ہمارے پاس ایسی اچھی خوشبوئیں ہیں۔پسند ہو تو یہ لے لو۔تو یہ عجیب بات ہے یہ انسانی فطرت ہے جو نہیں بدلتی۔خوشبو والا پھیلاتا ہے بد بو والا نہیں پھیلا تا۔بد بو والا تو اس کو چھپاتا ہے۔اگر وہ نیک فطرت ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ اس سے بدبو آ رہی ہو تو کوئی اس کے قریب آ جائے۔پس آنحضرت صلی یا تم نے کیسی پیاری بات کہی ہے جو ہمیشہ سے انسانی فطرت سے تعلق رکھنے والی ہے۔کستوری رکھنے والا یا تو تجھے کچھ دے گا یا تو اس سے کچھ خریدے گا۔کوئی بہت ہی کنجوس ہو تو کچھ بھی نہیں دیتا مگر اس سے لوگ خریدتے تو ہیں نا۔یا پھر کم از کم تجھے عمدہ خوشبو تو آئے گی ہی۔یہ تو ہوگا کہ تمہیں کچھ دیر کے لئے خوشبو کا مزہ آ جائے اور ہوسکتا ہے کپڑوں میں بھی رچ بس جائے لیکن دھونکنی چلانے والا یا تیرے کپڑے جلائے گا جو آگ کو تیز کر رہا ہو دھونکنی چلا کے، یا وہ تیرے کپڑوں کو جلائے گا یا پھر تو اس سے بد بو ہی پائے گا کیونکہ دھواں پھیل رہا ہے ، منہ گندہ ہو رہا ہے، جسم کالا ہو رہا ہے اور اس کی بدبو بھی اٹھتی ہے بڑی سخت۔تو فرمایا ایسے لوگوں سے پر ہیز کر۔جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں وہ گندے لوگ ہیں ان کے پاس جا کر مجھے کبھی کوئی فائدہ نصیب نہیں ہوسکتا لیکن جو نیک لوگ ہیں ان کے پاس جاؤ تو تمہیں ضرور فائدہ پہنچے گا۔اس حدیث کی روشنی میں اس آیت کا وہ ترجمہ جو معروف ہے وہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔قطعیت کے ساتھ آنحضرت صلی السلام فرمارہے ہیں کہ برے لوگوں کی صحبت کا تصور بھی نہ کرو، جاؤ ہی نہ وہاں تمہیں ضرور نقصان پہنچے گا۔ایک دوسری حدیث میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں یہ ترمذی باب الزھد سے لی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی ہی تم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے زیر اثر ہوتا ہے پس تم میں سے ہر ایک خیال رکھے کہ کیسے دوست بنا رہا ہے۔“ (جامع الترمذي، أبواب الزهد، باب الرجل على دين خليله۔۔حدیث نمبر : 2378) کتنی سادہ سی بات اور کتنی اہم ہے ایک انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے۔اگر اس کا بے ہودہ لوگوں کی مجلس میں آنا جانا ہے تو خواہ لاکھ بہانہ بنائے کہ میرے ہوتے ہوئے اس نے ایسی بات نہیں کی کیونکہ یہ نفس کا بہانہ ہے ایسے شخص کی مجلس کسی کو پسند ہی نہیں آنی چاہئے اگر وہ جاتا ہے تو عذر تراشی ہے