خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 273

خطبات طاہر جلد 17 273 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء ،، أَكَلْتُ السَّمْكَةَ حَتَّى رَأْسَهَا۔“ (المفردات فی غریب القرآن، کتاب الحاء زیر لفظ حتى ) میں نے مچھلی کھالی یہاں تک کہ سر بھی کھالیا "Even her Head " یہ معنی ہیں۔یہاں تک کہ مچھلی پوری کھائی ، یہاں تک کہ سر بھی نہیں چھوڑا۔پس اگر یہ لوگ دوسری بات میں بھی مبتلا ہو جا ئیں، گفتگو میں مصروف ہو جا ئیں تب بھی ان کے قریب نہیں جانا کیونکہ یہ بدبختوں کا گروہ ہے۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایسے گروہ میں جا کے بیٹھے اور موقعوں کی تلاش میں رہے کہ کب یہ کوئی اور بات کریں اور مجھے وہاں بیٹھنا نصیب ہو جائے۔ناممکن ہے کہ کوئی شخص جو دین کی غیرت رکھتا ہو اس گروہ کی طرف جانے کا تصور بھی کرے۔إنَّكُمْ إِذَا مِثْلُهُمْ یہ ہے آخر پر انذار کہ ان کی مجلس میں خواہ تم عام حالات میں جاؤ خواہ تم دوسری باتوں میں جاؤ جب بھی جاؤ گے اگر یہاں جا کے بیٹھنا تم نے شیوہ بنایا تو اُن جیسے ہو جاؤ گے، پھر تم میں اور اُن میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔اور یہاں بہت دلچسپ اس آیت کا اختتام ہے کہ وہ لوگ جو منافقت کرتے ہیں اور بظاہر یہ کہتے ہیں کہ جب ہم گئے تھے تو ایسی باتیں نہیں کر رہے تھے وہ بھی اور کافر جو کھلی کھلی بے حیائی کی باتیں کرتے ہیں۔فرمایا: إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنْفِقِينَ وَالْكَفِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا ایسے لوگ جو کھلم کھلا خدا کے دین کا تمسخر اڑاتے ہیں وہ کا فر ہیں اور ایسے لوگ جو ان کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو بظاہر دین داروں میں شمار کرتے ہیں، دین والے لوگوں میں شمار کرتے ہیں فرمایا سارے اکٹھے جہنم میں پھینک دئے جائیں گے۔دوسری آیت میں بھی یہی مضمون ہے جو میں نے بیان کیا ہے۔وَ إِذَا رَأَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوضُونَ في ايتِنَا فَاعْرِضْ عَنْهُمُ اور جب تو دیکھتا ہے ایسے لوگوں کو جو ہماری آیات کے متعلق بے ہودہ کلام کرتے ہیں تو فَاعْرِضْ عَنْهُمْ صاف مطلب ہے کہ ان کے پاس جا کے بیٹھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ ان سے منہ پھیر لے، ان سے پیٹھ پھیر لے، ان کی مجلس میں جا بھی نہ۔حتٰی يَخُوضُوا فِي حَدِیثٍ غَیرِہ یہاں تک کہ وہ کوئی کلام بھی کریں تب بھی ان کی مجلس میں نہیں جانا۔وراٹھا يُنْسِيَتَكَ الشَّيْطن اگر بھول کے ایک دفعہ ایسا واقعہ ہو چکا ہو، شیطان نے تمہیں ان کی مجلس میں پہنچایا ہو وہاں ایسی بے ہودہ باتیں ہو رہی ہوں تو وہ ایک ہی دفعہ ہوگا اس کے بعد پھر اس کا اعادہ نہ ہو۔