خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 264
خطبات طاہر جلد 17 264 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء اس کے بعد قرآن کریم کی بعض اور آیات ہیں جو آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو اس مضمون کو کھول رہی ہیں۔قُلْ يَاهْلَ الْكِتَبِ هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَ مَا انْزِلَ مِنْ قَبْلُ وَ أَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَسِقُونَ (المائدة: 60 ) ان اہل کتاب کو جو آج کے اہل کتاب ہیں ان کو مخاطب کر کے یہی آیت اسی طرح تحدی کے ساتھ اپنے مقصد کو پیش کر رہی ہے جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے اسی آیت نے اسی مقصد کو اسی تحدی کے ساتھ پیش کیا تھا کوئی بھی آپ فرق نہیں دیکھیں گے۔قُلْ ياهل الكتب هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللهِ۔تم ہم سے اس بات کا انتقام لے رہے ہو کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔اگر تم ایمان نہیں لائے تو تمہاری بد قسمتی ہے اور اگر بری چیز پر ایمان نہیں لائے تو خوش ہو جاؤ جلتے کیوں ہو۔کتنی عجیب منطق ہے جو اس میں بیان ہے۔غور کریں تو ہر دعوی کے ساتھ اس کی دلیل موجود ہے۔هَلْ تَنْقِمُونَ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِاللهِ تم انتقام کا نشانہ بنا رہے ہو صرف اس وجہ سے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔اگر تمہارے نزدیک یہ ایمان غلط ہے تو ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دو۔اگر تمہارے نزدیک تمہارا ایمان اللہ پر درست ہے تو موجیں کرو، اس کے فضلوں کے نمونے دیکھو، وہ تمہیں نصیب نہیں ہوتے۔اس لئے انتقام ہم سے اس بات کالے رہے ہو کہ ایمان لائے ہیں تو ٹھیک خدا پر ایمان لائے ہیں جو ہمیں نصیب نہیں ہے اس بات کا انتقام لے رہے ہو۔وَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ اور یا درکھو کہ جو کچھ ہم پرا تارا گیا ہے اس سے پہلے بھی یہی کچھ اتارا گیا تھا اس لئے فرق کے نتیجہ میں تم غصہ میں نہیں آئے ہو۔اگر طیش اور انتقام کا جذ بہ ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہی چیز جو پہلے بھی اتاری گئی تھی وہی ہم پر اتاری گئی۔اگر اس پر غصہ ہے تو پہلی تعلیم پر بھی غصہ کرو، وہ کیوں اتاری گئی تھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے الہامات اور تعلیمات پر میں بارہا چیلنج دے چکا ہوں کہ ایک بھی تعلیم دکھا ئیں جو رسول اللہ مایا یہ تم پر اتری ہوئی تعلیم کے برعکس ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہیں فرمایا ہو کہ جھوٹ بولو اس میں تمہیں بڑا ثواب ہوگا۔بد نظری کرو، بدکاری کرو، بے عملی کرو فسق و فجور میں مبتلا ہو جاؤ ، چوری چکاری کرو کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم میں کہیں بھی دشمن یہ باتیں دکھا سکتا ہے؟ اور یہ کیا وہ باتیں نہیں جو رسول اللہ سی ایم نے فرمائی تھیں۔پس اگر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر