خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 261 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 261

خطبات طاہر جلد 17 261 خطبہ جمعہ 17 اپریل 1998ء ہر یک وہ شخص جس پر توبہ کا دروازہ بند نہیں (ہے) عنقریب دیکھ لے گا کہ میں اپنی طرف سے نہیں ہوں۔کیا وہ آنکھیں بینا ہیں جو صادق کو شناخت نہیں کر سکتیں۔کیا وہ بھی زندہ ہے جس کو اس آسمانی صدا کا احساس نہیں (ہے)۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ : 403) اب ان دعاوی کے بعد اللہ تعالیٰ کا شکر ادا فرماتے ہیں کہ میری اس آواز کے ساتھ اور آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں جو میری تائید میں اس طرح کلام کر رہی ہیں۔ایسے ہاتھ ہیں جو خدا کے ہاتھ کے ساتھ اٹھ رہے ہیں۔ایسے قدم ہیں جو خدا تعالیٰ کی ان ہواؤں کی رفتار کے ساتھ جو جماعت کی تائید میں چلائی گئی ہیں وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔تو دعوی اگر تعلی ہوتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکیلے رہ جاتے۔اتنی مخالفتوں کے بعد، اتنے شور وشر کے بعد، اتناغل مچایا گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز دبا دینے کی کوشش کی گئی مگر یہ آواز دب نہ سکی۔پس مخالفتوں کے باوجود آواز کا نہ دبناء کاموں کا جاری ہونا، سلسلہ کا ترقی پاتے چلے جانا یہ بتا رہا ہے کہ یہ جو پیش گوئیاں ہیں یہ یقیناً سچی ہیں کیونکہ اُن پیشگوئیوں کی جانب جماعت روانہ ہوچکی ہے۔فرماتے ہیں: میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک مخلص اور وفادار جماعت عطا کی ہے۔(اب دیکھیں کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت آپ کی سچائی کی گواہ بن چکی ہے ) میں دیکھتا ہوں کہ جس کام اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں نہایت تیزی اور جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے پہلے اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتے ہیں۔“ اب یہ الہی کلام ہے کیونکہ سو سال سے زائد ہوئے اس بات کو کہے ہوئے آج بھی جماعت کا وہی حال ہے۔حیرت ہوتی ہے، ایک ادنی غلام جو مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ادنی ترین غلام ہے اس کی آواز میں جو برکت رکھی گئی ہے وہ مسیح موعود کی آواز کی برکت ہے کوئی اور آواز نہیں ہے اور وہی خدا کا کلام ہے جو آپ کے ذریعہ بول رہا تھا چنانچہ آج آپ سب دنیا میں یہی کچھ ہوتا دیکھ رہے ہیں پھر شک کی کونسی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔