خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد 17 251 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء جو اس سے کمتر خیال ہے وہ ٹھوکر کی جگہ ہے۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ : 548) پس اس مضمون کو فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ پر جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ختم فرما دیا۔مَن يَشَاءُ میں راضی ہونا ہے باقی بحثوں کو چھوڑ دو۔پیشاء کا مطلب ہے جسے چاہے، جس کے لئے راضی ہو جائے۔فرمایا تم رضا پر نظر رکھو، یہ دیکھو کہ اللہ کے پیار اور رضا کی نظر تم پر پڑتی ہے۔اگر وہ تم سے خوش ہے اور تم ہمیشہ اس کو خوش رکھنے کی کوشش کر رہے ہو تو پھر تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ایک انسان بھی جس سے خوش ہو اس کی بہت سی کمزوریوں سے صرف نظر کرتا ہے اور بالآخر نتیجہ اس کے حق میں ہی نکالتا ہے۔مائیں اپنے بچوں سے خوش ہوں تو یہی کام کرتی ہیں حالانکہ دوسروں کو اُن میں لاکھ عیوب دکھائی دیں۔اصل چیز خوشی ہے۔اللہ خوش تو فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ کا مضمون، اللہ ناراض تو يُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ کا مضمون تو بہت مشکل رستہ دکھا کر ، پانچ سواحکام کی باتیں فرما کر اور پیچ در پیچ راہوں سے گزار کر آخر پر پھر مضمون کو کتنا آسان کر دیا۔فرمایا سیدھی بات تو یہی ہے کہ سب کچھ رضائے باری تعالیٰ کی خاطر ہو۔تم یہ دیکھو کہ تمہارے اعمال سے اللہ ناراض نہ ہو اور اس بات کا خیال ہمیشہ، ہر لمحہ دل میں جاگزیں رہے کہ خدا کے پیار کی نظریں تم پر پڑتی ہوں۔اگر اللہ راضی تو سب کچھ راضی ، سب جگ راضی، ساری زندگی اپنے اعلیٰ مقصد کو پہنچ گئی۔اگر اللہ ناراض کر لیا تو پھر فرمایا اس سے کم تر خیال ہی وہ ٹھوکر کی جگہ ہے یعنی جن ٹھوکروں کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ کم تر خیال ہے یعنی اللہ کو راضی کرنے سے کم تر خیال کہ پوری طرح راضی نہ بھی ہوتو کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ کم تر خیال جو ہے وہ ٹھوکر کی جگہ ہے اس سے تمہیں ضرور ٹھوکر ملے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگے فرماتے ہیں یہ سب چیزیں کیسے حاصل ہوں گی ان چیزوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں ہمارے شامل حال ہیں اور یادرکھیں ہم دعاؤں کی ہواؤں کے رخ پر چل رہے ہیں اس لئے اگر پھر بھی ہم نے ٹھوکر کھائی تو وہ حالات جو ہمارے لئے سازگار کئے گئے ہیں ان کے مخالف چل کر ٹھو کر کھا ئیں گے۔فرماتے ہیں: میں تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں مگر تم لوگوں کو بھی چاہئے کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو۔“ کیونکہ سب فیصلے آسمان سے ہوتے ہیں۔رضا بھی آسمان ہی سے اترتی ہے۔اگر ہم دعاؤں سے کام