خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 252
خطبات طاہر جلد 17 252 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء نہیں لیں گے اور اس کی طرف توجہ نہیں کریں گے تو پھر کچھ بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔نمازیں پڑھو اور تو بہ کرتے رہو۔جب یہ حالت ہوگی تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گا۔“ اب یا درکھو کہ ہماری حفاظت کا سامان، ہمارے گھر کی حفاظت کا سامان اس بات سے وابستہ نہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اس معیار کو پہنچ جائے کہ اللہ تعالیٰ اسے بچالے۔ایک خاندان میں بے شمار لوگ ہوتے ہیں کمزور بھی اور طاقتور بھی مگر اللہ تعالیٰ کے احسان کا سلوک کتنا عظیم ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر سارے گھر میں ایک شخص بھی ایسا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کے باعث سے دوسروں کی بھی حفاظت کرے گا۔“ الحکم جلد 7 نمبر 6 صفحہ:5 مؤرخہ 14 فروری 1903ء) پس آپ کے گھر کی حفاظت کا سامان کتنا آسان ہو گیا ہے۔پہلے یہ خیال ہوسکتا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک اگر پوری طرح حفاظت کا حق دار نہ بنے گا تو مشکل اور تکلیف کے وقت برباد ہو سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ نظر رکھتا ہے اور اس نظر میں ایک بات شامل ہے جو یا در کھنے کے لائق ہے کہ اگر اپنے گھر کی حفاظت چاہتے ہیں اور پھر کمزوریاں ہیں تو پھر آپ کی وجہ سے وہ گھر بچایا جاسکتا ہے اور اگر کمزوریوں میں بے اختیار یاں ہیں اور بغاوت نہیں ہے تو پھر بچایا جائے گا۔یہ ساری باتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں مضمر ہیں مگر قرآن کریم کے وسیع مطالعہ سے نظر آنے لگ جاتی ہیں کہ یہ باتیں شامل حال ہیں۔اب وہ عذاب جس نے نوح کی قوم کو برباد کیا تھا حضرت نوح کا بیٹا بھی اس میں ہلاک ہوا ہے تو کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت نوح کی نیکیوں نے بیٹے کو کیوں نہ بچا لیا جن کو بچایا ان سب میں کمزوریاں تھیں اور جس کو نہیں بچایا اس میں باغیانہ حالت تھی اور باغیانہ حالت کے متعلق پہلے ذکر گزر چکا ہے کہ اس کو خدا قبول نہیں کرتا۔پس تمام گھر والے جن کی آپ تربیت اس رنگ میں کر رہے ہوں کہ باوجود کمزوریوں کے ان میں باغیانہ حالت نہ ہو تمام ایسے گھر والے آپ کی وجہ سے بچائے جائیں گے۔اب چونکہ وقت ہو گیا ہے اور آگے میں نے سفر بھی کرنا ہے باقی باتیں پھر انشاء اللہ۔