خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 243 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 243

خطبات طاہر جلد 17 243 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء کے الگ پھینک دیا جائے۔اب وہ ملکات کون سے ہیں اور کتنے پھیلے ہوئے ہیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں جب میں بیان کروں گا تو بعض وقت ڈر کے مارے جان نکلے گی، اتنا مشکل کام۔ابھی تک تو آسان تھا لیکن سلوک کی راہیں چلنے کے بعد مشکل ہوتی جاتی ہیں اور ایک فقرہ میں جس مضمون کو آپ نے سمویا ہے اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ کی عظمت اپنے دلوں میں بٹھاؤ اور اس کے جلال کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو۔اور یا درکھو کہ قرآن کریم میں پانسو کے قریب حکم ہیں اور اس نے تمہارے ہر یک عضو اور ہر یک قوت اور ہر یک وضع اور ہر یک حالت اور ہر ایک عمر اور ہر ایک مرتبہ فہم اور مرتبہ فطرت اور مرتبہ سلوک اور مرتبہ انفراد اور اجتماع کے لحاظ سے ایک نورانی دعوت تمہاری (تیار) کی ہے سو تم اس دعوت کو شکر کے ساتھ قبول کرو۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ : 548) پانچ سو ڈش لگائے گئے ہیں اور جو پانچ سو ڈش ہیں ان میں سے ہر ایک کا ہمارے کسی ملکہ سے کسی اندرونی جذبہ سے کسی اندرونی صفت سے تعلق ہے اور ایسی پانچ سوانسان کی حالتیں ہیں جن کی تفصیل بیان کئے بغیر ایک فقرہ استعمال فرمایا جس میں دراصل یہ ساری تفصیل بیان ہوگئی ہے۔اب میں دوبارہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔” تمہارے ہر یک عضو اور ہر یک قوت۔اور ہر عضو میں ہاتھ پاؤں وغیرہ ہر قسم کے اعضاء انگلیاں تک ، ناخن تک، زبان ، آنکھ، کان ، ناک ہر چیز اعضاء میں داخل ہے اور اعضاء کے سب حصے بھی اعضاء میں داخل ہیں۔تو فرمایا یہ جو دعوت ہے پانچ سو حکموں کی یہ تمام اعضاء کے لئے دعوت تیار ہوئی ہے۔اور ہر قوت جو انسان کے اندر پائی جاتی ہے اور قوتیں انسان کی الگ الگ ہیں۔کوئی کمزور ہے کوئی طاقتور ہے کسی کو بعض قوتیں ملتی ہیں بعض نہیں مالتیں۔مثلاً جو اندھے ہیں ان کو بینائی کی قوت نہیں ملتی تو فرمایا جو قوت بھی تمہارے اندر پائی جاتی ہے۔اور ہر یک وضع اور ہر یک حالت۔اب وضع قطع انسان کی مختلف ہوتی ہے۔ہر شخص کی اپنی ایک وضع قطع ہے تو ہر مختلف انسان کی جو مختلف وضع ہے اس کو بھی نظر میں رکھنا۔اور ہر ایک حالت۔‘ انسان کی حالتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں تو جب تک ہمہ وقت نظر نہ ہو ہر حالت پر نظر ہو ہی نہیں سکتی اور ہر ایک عمر۔اب چھوٹوں کے حالات اور ہیں بڑوں کے اور ہیں ، بچوں کے اور ، اور بوڑھوں کے اور۔