خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 242
خطبات طاہر جلد 17 242 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء میں نے ایسا خبیث، گندہ آدمی دیکھا ہی نہیں اور جو جو کہتے تھے وہ میں بیان نہیں کرسکتا۔کہتے ہیں، میں تو ایسی باتوں کے قریب بھی نہیں پھٹکا۔۔(خطبات محمود جلد 18 صفحہ: 329 ، خطبہ جمعہ مؤرخہ 30 جولائی 1937ء) تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے ساری جماعت کو جگا رہے ہیں۔تم بیدار نہیں ہو گے تو تمہاری عادات ساری زندگی تمہارے ساتھ لگی رہیں گی اور یہ مخفی عادات“ لوگوں سے نہیں اپنے آپ سے مخفی ہیں۔پس یہ ہے ایک حکیم حاذق جو روحانیات کا معالج ہے کس طرح کلام کرتا ہے۔مخفی خیالات اور مخفی عادات اور مخفی جذبات۔جذبات بھی مخفی ہوتے ہیں جو باہر کی نظر سے تو مخفی ہوں گے ہی لیکن بسا اوقات اپنے جذبات اپنی نظر سے بھی مخفی ہو جاتے ہیں۔کئی قسم کے جذبے اٹھتے ہیں چیزوں کو دیکھ کر۔حرص پیدا ہوتی ہے، حسد پیدا ہوتا ہے، ناجائز اپنانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور انسان کو پتا نہیں چلتا کہ میرے دل میں مخفی جذبات ایسے ہیں جو میری نظر سے مخفی ہیں۔ان کا نوٹس نہیں لیتا اور یہ ساری باتیں جس کو انگریزی میں کہتے ہیں نوٹس لینا ، نوٹس لینے کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خوب کھول کھول کر بیان فرما رہے ہیں۔اور مخفی ملکات کو اپنی نظر کے سامنے پھیرتے رہو۔“ اب لفظ ”ملکات میں تمام انسانی صلاحیتیں آجاتی ہیں جس کو Potentials کہتے ہیں فرمایا تمہارے ملکات یعنی تمہاری جتنی بھی طاقتیں کسی نہ کسی رنگ میں تمہیں عطا ہوئی ہیں ان تمام طاقتوں پر نظر رکھو ہر ایک کے متعلق خطرہ ہے کہ جس حالت پر تم نظر نہیں کرو گے اسے پھپھوندی لگ جائے اور انسان کی بے شمار اندرونی حالتیں ہیں جو ایک لفظ ملکات میں کلیہ بیان ہو گئیں۔تمام انسانی صفات ، خواہشات، تمام تمنا میں کسی نہ کسی دل کے جذ بہ سے تعلق رکھتی ہیں۔چنانچہ فرمایا ان سب پر نظر رکھنی ہوگی جہاں بھی تمہارے ملکات میں کسی جگہ کسی خرابی کے آثار پائے جائیں گے تمہیں اس کو کاٹ کر الگ پھینکنا ہوگا۔اور جس خیال یا عادت یا ملکہ کورڈی پاؤ۔(پھر وہ آپ دیکھ رہے ہیں تو صاف نظر آجائے گا کہ کیا چیز رڈی ہے اور کون سی اچھی ہے ) اس کو کاٹ کر باہر پھینکو ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے سارے دل کو نا پاک کر دیوے اور پھر تم کاٹے جاؤ۔“ عجیب فصاحت و بلاغت کا کمال ہے۔ایسا عظیم کلام کہیں دیکھنے میں نہیں ملتا۔فرمایا کاٹو ، کاٹو ، کاٹو اگر نہیں کاٹو گے تو یہ چیزیں پھیل جائیں گی یہاں تک کہ تم اس طرح کاٹے جاؤ گے جس طرح پتہ کاٹ