خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 241
خطبات طاہر جلد 17 241 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء یہ یادرکھو کہ اگر نیتوں میں فساد شروع ہو جائے تو یہ جیسے پان کو کوئی بیماری لگے اگر کاٹ کے پھینکا نہ جائے تو وہ فساد ضرور آگے بڑھے گا۔چنانچہ پنواڑیے جو پان کا کاروبار کرتے ہیں وہ بھی اور عورتیں بھی جن کو عادت ہوتی ہے وہ ہر وقت اپنے پان کو دیکھتی رہتی ہیں، کسی کنارے سے کوئی چیز پھپھوندی لگی ہو تو قیچی سے کاٹ کے الگ پھینک دیتی ہیں اور اگر نہ پھینکیں گی تو سارا پان گندہ ہو جائے گا۔تو ایسی اعلیٰ مثال دی ہے کہ اس پر غور کرنا بھی ہر کس و ناکس کے لئے آسان ہے۔اور ر ڈی ٹکڑے کو کاٹتا ہے اور باہر پھینکتا ہے۔اب نیتوں میں جو فتور آتے ہیں ان پر اگر نظر ہو تو اس فتور کو وہیں سے قینچی کے ساتھ کاٹ دینا چاہئے۔اپنے دل میں نہیں پالنا اس کو باہر پھینک دو۔اسی طرح تم بھی اپنے دلوں کے مخفی خیالات اور مخفی عادات اور مخفی جذبات اور مخفی ملکات کو اپنی نظر کے سامنے پھیرتے رہو۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ :548،547) اب اس میں کئی باتیں بیان فرمائی ہیں وہ ایک ایک بات کھول کر آپ کے سامنے رکھنے والی ہے۔تم بھی اپنے دلوں کے منفی خیالات۔دل کے خیالات تو مخفی ہی ہوتے ہیں پھر مخفی خیالات سے کیا مراد ہے؟ مراد ہے تمہاری نظر سے مخفی۔اتنی ہوشیاری کی ضرورت ہے کہ غور سے دیکھو گے تو پھر سمجھ آئے گی اور نہ تمہاری اپنی نظر سے مخفی خیالات پلتے رہیں گے اور تمہیں خبر تک نہیں ہوگی۔پس فرمایا کہ دو مخفی خیالات اور مخفی عادات۔انسان کے اندر بہت سی ایسی بد عادات راہ پا جاتی ہیں کہ اسے پتا بھی نہیں لگتا۔وہ عادی ہو جاتا ہے اور اتنا عادی بن جاتا ہے کہ وہ ہر روز وہی کام کر رہا ہے اور اسے خیال تک نہیں آتا کہ میں یہ کام کر رہا ہوں بلکہ اگر اس کو پکڑا جائے تو بڑے غصہ سے رد عمل دکھائے گا کہ تو بہ تو بہ میں تو کبھی قریب نہیں آیا ایسی بات کے حالانکہ ہر وقت وہی کام کرتا ہے۔قادیان میں ایک بزرگ ہوا کرتے تھے ان کو بھی اسی قسم کی عادت پڑ گئی تھی۔ان کا اب نام لینے کی ضرورت نہیں مگر ان کا لطیفہ اکثر بیان ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا کہ تمہاری یہ عادت ہے اس کو دور کرنے کی کوشش کرو تو انہوں نے تو بہ توبہ کی، استغفر اللہ میں تو قریب نہیں پھٹکا کبھی اس کے اور لوگ بھی پھر دیکھا دیکھی اُن سے پوچھا کرتے تھے تو بڑے بڑے پھکر تو لتے تھے اور کہہ یہ رہے ہوتے تھے کہ میں بالکل گالی نہیں دیتا، بالکل گندی زبان استعمال نہیں کرتا اور جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ آپ کرتے ہیں تو کہتے تھے لعنت پڑے اس پر،