خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 240
خطبات طاہر جلد 17 240 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء بولتا ہے تو اللہ کو پتا ہے کہ دل میں بھی جھوٹ ہے، یہ مراد ہے۔یہ مراد نہیں کہ زبان سے جو کچھ بھی کہے آپ اس کو مان جائیں۔محاسبہ کرنے والا انسان نہیں، اللہ ہے۔پس زبان سے اگر وہ جھوٹ بولتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں تو سب کچھ ہے مگر اس بات کو اللہ تعالی گویا نوٹ کر لیتا ہے کہ زبان جھوٹی ہے تو دل بھی جھوٹا ہے۔پس یہ معنی ہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کہ: تیرا دل شر سے خالی ہے تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہوگی اور ایسا ہی تیری آنکھ اور 66 تیرے سارے اعضاء “ جب دل شر سے خالی ہو تو آنکھ بھی شہر سے خالی ہوگی اور سارے اعضاء شر سے خالی ہو جائیں گے کیونکہ دل میں نیتیں پلتی ہیں۔اگر بھلائی کی نیتیں ہیں تو سارا وجود بھلا ہو جائے گا۔اگر شر کی نیتیں ہیں تو سارا وجودشر سے بھر جائے گا۔تو بظاہر ایک اجنبی سی بات تھی کہ ہم کیسے معلوم کریں گے مشکل مسئلہ نظر آتا تھا کہ ہم کیسے معلوم کریں گے کہ ہم نے اپنے نفس کا صحیح محاسبہ کیا ہے۔اس مضمون کو اتنا سادہ، اتنا آسان بیان کر دیا ہے کہ کوئی تھوڑی سے تھوڑی عقل والا بھی اس مضمون کی تہہ تک پہنچے بغیر رہ نہیں سکتا۔کھلا کھلا واضح مضمون ہے۔نور یا اندھیرا پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے۔اب اس مضمون کو سمجھ کر جو پہلے گزرا ہے اس پر غور کریں۔نور یا اندھیرا پہلے دل میں ہی پیدا ہوتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ تمام بدن پر محیط ہو جاتا ہے۔“ پس یہ نہ سمجھو کہ آغاز چھوٹا سا ہے۔اگر آغاز نور کا آغاز ہے تو وہ بھی پھیلے گا اور اگر آغاز اندھیرے کا آغاز ہے تو وہ بھی پھیلے گا۔وو سو اپنے دلوں کو ہر دم ٹٹولتے رہو اور جیسے پان کھانے والا اپنے پانوں کو پھیرتا رہتا ہے۔“ یہ ہے محاسبہ ، ہر وقت نظر کہ کوئی کیڑا تو نہیں لگ رہا۔ایک پہلو پڑے پڑے کہیں میرا دل گلنے سڑنے تو نہیں لگ گیا یعنی میں اس سے غافل رہا، میں سمجھا کہ اب بالکل ٹھیک ہے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا اور رفتہ رفتہ دیکھا تو ایک بیماری لگ گئی تھی ، پھپھوندی لگ گئی تھی تو مثال بھی بہت پیاری دی ہے۔”سو اپنے دلوں کو ہر دم ٹٹولتے رہو اور جیسے پان کھانے والا اپنے پانوں کو پھیرتا رہتا ہے اور رڈی ٹکڑے کو کاٹتا ہے اور باہر پھینکتا ہے۔“