خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 232

خطبات طاہر جلد 17 232 خطبہ جمعہ 3 اپریل 1998ء ” ہم کیوں کر خدائے تعالیٰ کو راضی کریں اور کیونکر وہ ہمارے ساتھ ہو۔اس کا اُس نے مجھے بار بار یہی جواب دیا (ہے) کہ تقویٰ سے۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ :547) تقویٰ پہ اتنا زور ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کہ ہر تان تقویٰ پر ٹوٹتی ہے۔آغاز تقویٰ سے، بیچ کا سفر تقویٰ سے، انجام تقویٰ سے ہر اک نیکی کی جڑ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے الحکم جلد 5 نمبر 32 صفحہ: 13 مؤرخہ 31 اگست 1901ء) پس آپ فرماتے ہیں کیوں کر خدا تعالیٰ کو راضی کریں اور کیوں کر وہ ہمارے ساتھ ہواس کا اس نے مجھے بارہا یہی جواب دیا ہے کہ تقویٰ سے۔اب جتنے شیطان لوگ ہیں وہ اپنے دل کو ٹول کے دیکھ لیں تقویٰ کا نام و نشان دکھائی نہیں دے گا۔تقویٰ والا تویچ بولتا ہے، تقویٰ والا تو پہلے بات کو تولتا ہے پھر بیان کرتا ہے، تقویٰ والے کے دل میں کسی کو نقصان پہنچانا، فساد پھیلا نا یہ ایسے تصورات ہیں جو اس کے دل میں جھانکتے بھی نہیں کیونکہ تقویٰ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔جود یکھ رہا ہو مالک کے سامنے کھڑا ہو اس کے دل میں کیسے فساد پیدا ہو سکتا ہے۔”سواے میرے پیارے بھائیو! کوشش کرو تا متقی بن جاؤ۔( کتنا پیار سے مخاطب فرمایا ہے۔) اے میرے پیارے بھائیو! کوشش کرو تا متقی بن جاؤ۔بغیر عمل کے سب باتیں بیچ ہیں اور بغیر اخلاص کے کوئی عمل مقبول نہیں ( ہے۔) سو تقویٰ یہی ہے کہ ان تمام نقصانوں سے بچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھاؤ۔اور پرہیز گاری کی باریک راہوں کی رعایت رکھو۔“ اب سب نقصانوں سے بیچ کر خدا تعالیٰ کی طرف قدم اٹھانا یہ ہے تقوی یعنی کسی بری چیز سے بچنا بھو کر سے بچنا۔دن کے وقت جب آپ چلتے ہیں تو سب ٹھوکریں دکھائی دے رہی ہوتی ہیں یہاں ٹھوکر ہے، وہاں ٹھو کر ہے اور آپ ان سے بیچ کے چلتے ہیں۔پس اگر ٹھوکریں دکھائی نہیں دیں گی تو کیسے ان سے بچ سکیں گے۔تقویٰ یہ ہے کہ اپنے خطرے کے مقامات سے آگاہی نصیب ہو۔ہر چیز سے جو انسان