خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 230
خطبات طاہر جلد 17 230 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء اب یہ بھی کتنی عجیب بات ہے۔حقیقت تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم حقیقت پر قدم مار ہیں۔“ اگر حقیقت پر قدم ہے تو حقیقت تک پہنچ گئے لیکن یہ خیال بھی جاہلا نہ ہے۔ایک بہت بڑا عارف باللہ ہے جو یہ کلام کر رہا ہے۔ساری سائنس کی کہانی اس ایک فقرہ میں بیان ہوگئی۔جب سائنس دانوں نے حقیقت پر قدم مارے ہیں، جو حقیقت ان کے سامنے تھی ، تو اس حقیقت نے اگلی حقیقتیں دکھائی ہیں۔جب اگلی حقیقوں پر قدم رکھا ہے تو پھر ان سے اگلی حقیقتیں دکھائی ہیں۔اب یہ باتیں ایک بڑے سے بڑے عالم کو بھی سمجھ نہیں آسکتیں جب تک اللہ تعالیٰ نہ سمجھائے اور یہ جو تحریر میں آپ کے سامنے پڑھ کے سنا رہا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باقی تحریروں کی طرح اس میں بھی اللہ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کے ایسے ثبوت ہیں جو کسی طرح ٹالے نہیں جاسکتے اور جب ان پر غور کریں تو اگلا قدم لا زما دکھائی دینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان ساری حقیقتوں کو قرآن کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں اور قرآن حضرت محمد رسول اللہ لی لی ایم کے دل پہ نازل ہوا۔تو بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ اللہ اور جس سے وہ بول رہا ہے اس کے درمیان کچھ بھی نہیں ہے لیکن ان حقیقتوں میں آنکھ کھولیں جو بیان ہو رہی ہیں تو پتا چلے گا کہ آپ خود اقرار کرتے ہیں جو اپنا ایسا اقرار ہے کہ جس کے نیچے ہونے میں ایک ذرہ بھی فرق نہیں۔ابھی پہلے گزرا ہے میں قرآنی صداقتیں بیان کرتا ہوں، قرآنی تعلیمات تمہارے سامنے رکھتا ہوں۔اب قرآنی تعلیمات رکھتے ہیں تو اپنے دل سے تو کچھ بھی نہ ہوا۔قرآنی تعلیمات کس پر نازل ہوئی تھیں۔حضرت اقدس محمد مصطفی صلی للہ یہ تم پر۔فرضی تجویزیں اور خیالی منصوبے ہمیں کام نہیں دے سکتے۔“ خیالی منصوبے سارے باطل جایا کرتے ہیں۔خاص طور پر جماعت احمدیہ کے تعلق میں اس کو کل عالم میں پھیلانا اور اس کی بار یک بار یک ضرورتوں پر دھیان دینا، اس کو سچائی کے رستوں پر ڈالنا، ان بدیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنا جو وہ ساتھ لے کے آئے ہیں اور رفتہ رفتہ ان کو صراط مستقیم یعنی خدا تعالی کی سڑک پر ڈال دینا یہ اتنے بڑے کام ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سہارا نہ ہو تو انسان ان کے بوجھ سے پارہ پارہ ہو جائے۔یہ محض اللہ تعالیٰ ہے جو طاقت بخشتا ہے اور اپنے رستے بھی دکھاتا ہے۔فرمایا: