خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 227
خطبات طاہر جلد 17 227 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء ہر شخص جو نجات چاہتا ہے اس کو اس نور کی ضرورت ہے۔اب اس میں قرآن کریم کے تمام احکامات کی طرف اشارہ ہو گیا ہے۔جس حکم کو آپ توڑیں گے کسی نہ کسی دکھ کو دعوت دیں گے۔جس حکم کے دائرہ سے نکلیں گے ایک شجرہ خبیثہ کی طرف بڑھیں گے جس کا پھل کڑوا اور گمراہ کرنے والا ہے۔پس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: (اس کی ہر ایک کو ضرورت ہے ) کیونکہ جس کو شبہات سے نجات نہیں اس کو عذاب 66 سے بھی نجات نہیں۔“ بہت گہری اور عارفانہ اور دائی حقیقت بیان فرما دی : ” جس کو شبہات سے نجات نہیں اس کو عذاب سے بھی نجات نہیں۔“ شبہ کے نتیجہ میں عذاب پیدا ہوتے ہیں یعنی خدا کی ہستی کے متعلق شبہ کرنے کے نتیجہ میں۔” جو شخص اس دنیا میں خدا کے دیکھنے سے بے نصیب ہے وہ قیامت میں بھی تاریکی میں گرے گا۔خدا کا قول ہے۔مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى (بنی اسرائیل: 73) 66 پس یہاں جو خدا کو نہیں دیکھ سکے اُن کی عمریں گل گئیں، ضائع ہو گئیں ، بڑھے ہو گئے لیکن خدا دکھائی نہ دیا ان کے لئے یہ ایک اندار ہے کہ جیسے تم یہاں اندھے تھے ویسے ہی وہاں اندھے اٹھائے جاؤ گے اور کوئی بھی حقیقت، جو خدا شناسی کی حقیقت ہے نہ تم نے یہاں پائی نہ وہاں پا سکو گے۔پھر فرمایا: اور خدا نے اپنی کتاب میں بہت جگہ اشارہ فرمایا ہے کہ میں اپنے ڈھونڈ نے والوں کے دل نشانوں سے منور کروں گا یہاں تک کہ وہ خدا کو دیکھیں گے اور میں اپنی عظمت انہیں دکھلا دوں گا۔“ یہ ہے اصل خدا کو پانے کی نشانی، اگر سچی جستجو ہو گی تو اللہ تعالیٰ ضرور مل جاتا ہے مگر ملتا اس طرح ہے کہ وہ دلوں کو منور کرتا ہے اس کا نو را ترتا ہے وہی آسمانی نور جس کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ دلوں پر اترتا ہے اور وہ ڈھونڈنے والوں کے دلوں کو منور کر دیتا ہے۔جب وہ نو را ترتا ہے تو اس نور کو دیکھتے ہیں یعنی خدا کو دیکھتے ہیں کیونکہ ہر چیزا اپنی صفات سے دکھائی دیا کرتی ہے۔اگر صفات نکال دیں تو کچھ بھی باقی نہیں رہتا، وجود مٹ جاتا ہے۔پس اس حقیقت پر غور کریں کہ پھول بھی دکھائی اس لئے دیتا ہے کہ