خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 224

خطبات طاہر جلد 17 224 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء فلسفہ سمجھ آ جائے گا۔فرمایا ہم یونہی چون و چرا کے بغیر تعمیل کا حکم نہیں دے رہے جیسے بچہ اپنی ماں کو جانتا ہے کہ اسے وہ کبھی غلط حکم نہیں دے سکتی اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام، مسیح موعود علیہ السلام کو جانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اتنا ہمدرد، اتنا بنی نوع انسان کی خیر خواہی چاہنے والا ، ہو کیسے سکتا ہے کہ غلط حکم دے دے۔پس ساتھ ہی مثال دے دی جو دلیل بن گئی۔اب وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود کے کلام کو سرسری نظر سے دیکھتے ہیں یا ہیں ہی بد بخت ، جین کے کانوں سے آگے بات نہیں اترتی ان کو اس بات کی سمجھ نہیں آسکتی۔کہتے ہیں ہم کیوں حکم مانیں ، یہ حکم ہے، یہ زیادتی ہے، جاہل لوگ ہیں ، بے وقوف ہیں وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں۔اُن بدبختوں کو یہ نہیں پتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلیل دے رہے ہیں۔فرماتے ہیں جیسا کہ بچہ اپنی والدہ کی باتوں کو مانتا ہے۔“ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شخصیت کو سمجھیں۔آپ کی شخصیت فساد برپا کرنے والی شخصیت ہی نہیں ہے۔ساری زندگی بنی نوع انسان کے غم میں اور ہدایت اور پاکیزگی کے غم میں آپ نے گویا ہلاک کی ہے۔ایسی گریہ وزاری کی ہے خدا کے حضور، ایسار وئے ہیں جیسے اپنے نفس کو ہلاک کر رہے ہوں۔ایسے شخص پر یہ بدگمانی کہ کوئی حکم دے گا اور اپنی انا کی خاطر دے گا ہماری بھلائی کی خاطر نہیں دے گا یہ گمان کرنے والا اول درجہ کا جاہل ہے۔وہ ماننے والوں پر ہنستا ہے اور ماننے والوں کو خدا بتا رہا ہے کہ ان پر ہنسو یا ان پر روڈ کیونکہ ان کو کوئی عقل نہیں ہے کہ کس پر کیا الزام لگا رہے ہیں۔قرآن کی تعلیمیں تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچانا چاہتی ہیں ان کی طرف کان دھرو اور اُن کے موافق اپنے تئیں بناؤ۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم ، روحانی خزائن جلد 3، صفحہ: 549) قرآن کی تعلیموں کی طرف مزید اشارہ کرتے ہوئے فرما دیا کہ میں تو قرآن کی تعلیمیں دیتا ہوں کونسی میں نے قرآن سے الگ بات کہی ہے۔اگر مجھے نہیں مانتے اگر قرآن کو مانتے ہو تو دیکھ لو کہ قرآن کی تعلیمات تو تمام تر ، سارے احکام تمہاری بھلائی کے لئے ہیں اور یہاں وہ لوگ جو د ہر یہ ہیں جو قرآن کو نہیں مانتے ان کے لئے بھی ایک دلیل ہے۔قرآن کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم بھی نہیں نکال سکتے جو بنی نوع انسان کے فائدہ میں نہ ہو۔اگر قرآن کی تعلیمات پر عمل ہو جائے تو یہ دنیا جنت بن جاتی ہے، ایک ادنی سا فساد بھی اس میں باقی نہیں رہتا۔پھر فرمایا: